صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 559 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 559

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۵۹ ۷۴ - كتاب الأشربة "شریعت کے بعض احکام بظاہر چھوٹے چھوٹے نظر آتے ہیں لیکن اگر ان پر غور کیا جائے تو ان میں اتنی اہمیت ہوتی ہے کہ ان کا ترک کرنا قومی کیریکٹر کو خراب کر دیتا ہے مثلاً اسلام کی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کام میں دائیں کو بائیں پر ترجیح دی ہے۔پانی پیتے وقت دائیں کو ترجیح دی ہے، کھانا کھاتے وقت دائیں کو ترجیح دی ہے، وضو کرتے وقت دائیں کو ترجیح دی ہے ، نہاتے وقت دائیں کو ترجیح دی۔غرض جتنے اہم کام ہیں ان میں آپ نے دائیں کو ترجیح دی ہے سوائے ایسے کاموں کے جن کے اندر ناپاکی کا کچھ پہلو ہو ان میں بائیں کو رکھا ہے مثلاً طہارت بائیں ہاتھ سے کرنی چاہئے۔(دائیں کو بائیں پر فوقیت حاصل ہے ، انوار العلوم جلد ۱۸ صفحہ ۴۸۹) بَاب ۱۹: هَلْ يَسْتَأْذِنُ الرَّجُلُ مَنْ عَنْ يَمِيْنِهِ فِي الشَّرْبِ لِيُعْطِيَ الْأَكْبَرَ آدمی پینے کے متعلق اس شخص سے اجازت مانگے جو اس کے دائیں طرف ہو تا کہ وہ بڑے کو دے دے أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِيْنِهِ ٥٦٢٠: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ قَالَ :۵۶۲۰: اسماعیل بن ابی اولیس) نے ہم سے حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ بیان کیا۔انہوں نے کہا کہ مالک نے مجھے بتایا۔عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ انہوں نے ابو حازم بن دینار سے، ابوحازم نے رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پینے کی کوئی چیز لائی گئی اور آپ نے اس سے پیا۔اس غُلَامٌ وَعَنْ يَسَارِهِ الْأَشْيَاخُ فَقَالَ وقت آپ کے داہنی طرف ایک لڑکا تھا اور آپ لِلْغُلَامِ أَتَأْذَنُ لي أَنْ أُعْطِيَ هَؤُلَاءِ کے بائیں طرف بزرگ تھے۔آپ نے لڑکے فَقَالَ الْغُلَامُ وَاللَّهِ يَا رَسُوْلَ اللهِ لَا سے فرمایا: کیا تم اجازت دیتے ہو کہ ان کو دوں۔أُوْثِرُ بِنَصِيْبِي مِنْكَ أَحَدًا قَالَ فَتَلَّهُ لڑکے نے کہا: اللہ کی قسم یارسول اللہ ! جو میرا حصہ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ہے آپ سے، اس میں تو میں کسی کو مقدم کرنے کا