صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 545 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 545

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۴۵ ۷۴ - كتاب الأشربة السَّاعِدِيَّ دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ ساعدی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی شادی کی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُرْسِهِ فَكَانَتِ امْرَأَتُهُ دعوت دی اور اس دن ان کی بیوی ہی ان کی خَادِمَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَهِيَ الْعَرُوسُ فَقَالَتْ خدمت کرنے والی تھی حالانکہ وہ دلہن تھی۔ وہ هَلْ تَدْرُونَ مَا أَنْقَعْتُ لِرَسُوْلِ اللهِ کہتی تھی: کیا تم جانتے ہو کہ میں نے رسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْقَعْتُ لَهُ صلى اللہ علیہ وسلم کے لئے کیا چیز بھگو کر شربت تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ فِي تَوْرٍ۔ تیار کیا ؟ میں نے آپ کے لئے رات کو ایک لگن میں کچھ کھجوریں بھگو دی تھیں۔ أطرافه : ۵۱٧٦، ۵۱۸۲، ۵۱۸۳، ٥٥٩١، ٦٦٨٥- تشريح : نَقِيعُ التَّهْرِ مَا لَمْ يُسكر: کھجور کا شربت جب تک وہ نشہ آور نہ ہو۔ تازہ یا خشک پھل کشم (مثلاً کھجور ، چھوہارے، انگور یا شمش وغیرہ) کو پانی میں ڈال کر رات بھر رکھا رہنے دیتے ہیں اور صبح کو نچوڑ کر پھل کا پھوک الگ کر دیتے ہیں۔ اس طرح تیار ہونے والا شربت نبیذ کہلاتا ہے۔ مدینہ میں یہ شربت زیادہ تر کھجور سے تیار کیا جاتا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو نبیذ استعمال فرماتے ، اس کے متعلق حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں: كُنَّا نَنْينُ لِرَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ يُولَّى أَعْلَاهُ وَلَهُ عَزْلَاءُ، تَنْبِذُهُ غُدُوَةً فَيَشْرَبُهُ عِشَاءُ، وَتَنْبِذُهُ عِشَاءَ فَيَشْرَبُهُ غُدُوَةً ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشکیزہ میں نبیذ بناتے تھے جس کے اوپر کا حصہ باندھ دیا جاتا تھا اور اس کا چھوٹا منہ تھا۔ ہم صبح کو نبیذ بناتے آپ اسے رات کو پیتے اور ہم رات کو نبیذ بناتے، آپ اسے صبح کو پیتے۔ 1 بَاب ۱۰ : الْبَاذَقُ باذق یعنی برانڈی وَمَنْ نَهَى عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ مِنْ اور جس نے شرابوں میں سے ہر ایک نشہ آور الْأَشْرِبَةِ وَرَأَى عُمَرُ وَأَبُو عُبَيْدَةَ سے منع کیا۔ اور حضرت عمررؓ اور حضرت ابو عبیدہ وَمُعَاذْ شُرْبَ الطَّلَاءِ عَلَى الثُلُثِ اور حضرت معاذ نے تہائی انگور کا شیرہ جائز سمجھا۔ ل (صحیح مسلم ، كتاب الأَشْرِبَةِ ، بَابُ إِبَاحَةِ النَّبِيلِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرُ مُسْكِرًا ) الباذق انگور کے پکے ہوئے شیرہ کی وہ حالت ہے جب وہ نشہ آور ہو جائے اور شراب بن جائے۔ (عمدۃ القاری جزء ۲۱ صفحه (۱۸۱) الطلاء سے مراد انگور کا پکا ہوا رس یعنی شیرہ ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۲۱ صفحہ ۸۱)