صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 540
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۴۰ ۷۴ - كتاب الأشربة آخَرِيْنَ قِرَدَةً وَخَنَازِيْرَ إِلَى يَوْمِ دھاوا کرے گا اور پہاڑ کو گرائے گا۔اور کچھ لوگ ہوں گے جن کی صورتیں بگاڑ کر بندر اور خنزیر الْقِيَامَةِ۔بنائے گا، قیامت تک ایسے ہی رہیں گے۔تشريح۔وَيَمْسَخُ آخَرِينَ قِرَدَةً وَخَنَازِیر: اور کچھ لوگ ہوں گے جن کی صور تیں بگاڑ کر بندر اور خنزیر بنائے گا۔اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ فی الواقعہ ان کی انسانی شکلیں بگڑ کر بندروں اور خنازیر والی بن جائیں گی بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنی خصلتوں اور عادات کی وجہ سے بندر اور خنزیر بن جائیں گے۔جیسے محاورہ میں بد زبان شخص کو کتا اور نیک انسان کو فرشتہ کہا جاتا ہے ، یہاں بھی اسی طرح استعارہ میں بات کی گئی ہے۔بَاب : الْاِنْتِبَاذُ فِي الْأَوْعِيَةِ وَالتَّوْرِ برتنوں اور پتھر کے لگن میں نبیذ بنانا :٥٥٩١ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ :۵۵۹۱ قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ : حَدَّثَنَا يَعْقُوْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ يعقوب بن عبد الرحمن نے ہمیں بتایا۔انہوں نے أَبِي حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ سَهْلًا يَقُولُ ابو حازم ( سلمہ بن دینار) سے، ابو حازم نے کہا: أَتَى أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ فَدَعَا میں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی) سے سنا۔رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وہ کہتے تھے: حضرت ابواسید ساعدی آئے اور عُرْسِهِ فَكَانَتْ امْرَأَتُهُ خَادِمَهُمْ وَهِيَ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی الْعَرُوسُ قَالَ أَتَدْرُونَ مَا سَقَيْتُ شادی میں دعوت دی اور ان کی بیوی ہی ان کی رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خدمت کرنے والی تھیں حالانکہ وہ دل وہ دلہن تھیں۔أَنْقَعْتُ لَهُ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ فِي اس عورت نے کہا: کیا تم جانتے ہو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پینے کے لیے کیا پیش کیا؟ میں نے آپ کے لئے رات کو ایک لگن میں کچھ کھجوریں بھگو دی تھیں۔(اُن کا شربت میں نے آپ کو پلایا۔) أطرافه: ٥١٧٦، ۰۱۸۲، 51۸۳، 5597، 6685۔