صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 518 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 518

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۱۸ ۷۳ - كتاب الأضاحي بَاب ١٥ : إِذَا بَعَثَ بِهَدْيِهِ لِيُذْبَحَ لَمْ يَحْرُمْ عَلَيْهِ شَيْءٌ اگر کسی نے اپنے قربانی کے جانور کو اس لئے بھیجا کہ تا اسے ذبح کیا جائے تو اس پر کچھ بھی حرام نہیں ہو گا ٥٥٦٦ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ۵۵۶۶: احمد بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبد اللہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنِ بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔ اسماعیل (بن الشَّعْبِي عَنْ مَّسْرُوقٍ أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ الى خالد ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبی سے، فَقَالَ لَهَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ رَجُلًا شعبی نے مسروق سے روایت کی کہ وہ حضرت يَبْعَثُ بِالْهَدْيِ إِلَى الْكَعْبَةِ وَيَجْلِسُ عائشہ کے پاس آئے اور ان سے کہنے لگے: فِي الْمِصْرِ فَيُوصِي أَنْ تُقَلَّدَ بَدَنَتُهُ امّ المؤمنین! کوئی شخص قربانی کا جانور کعبہ کو بھیجتا فَلَا يَزَالُ مِنْ ذَلِكِ الْيَوْمِ مُحْرِمًا ہے اور شہر میں بیٹھا رہتا ہے اور یہ وصیت کرتا حَتَّى يَحِلَّ النَّاسُ قَالَ فَسَمِعْتُ ہے کہ اس کی اونٹنی کو ہار ڈالا جائے اور اس دن تَصْفِيْقَهَا مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ فَقَالَتْ سے برابر جب تک لوگ حج سے فارغ ہو کر احرام لَقَدْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُوْلِ نہیں کھولتے احرام باندھے رہتا ہے۔ مسروق کہتے اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبْعَثُ تھے: میں نے پردہ کے پیچھے سے حضرت عائشہ هَدْيَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ فَمَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ کے تالی بجانے کی آواز سنی، کہنے لگیں: میں مِمَّا حَلَّ لِلرِّجَالِ مِنْ أَهْلِهِ حَتَّى رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں يَرْجِعَ النَّاسُ۔ کے بار بٹا کرتی تھی اور آپ کعبہ کو اپنی قربانی کے جانور بھیجتے تھے تو لوگوں کے لوٹنے تک آپ پر اس بات سے کچھ بھی حرام نہ ہوتا جو مردوں پر اپنی عورتوں سے حلال ہے۔ أطرافه: ١٦٩٦، ١٦٩٨، ۱٦٩٩، ۱۷۰۰، ۱۷۰۱، ۱۷۰۲، ۱۷۰۳، ۱۷۰۴، ۱۷۰۵، ۲۳۱۷