صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 501
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۰۱ ۷۳ - كتاب الأضاحي قَالَ قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ جہنی سے، بعجہ نے حضرت عقبہ بن عامر جہنی سے وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ ضَحَايَا فَصَارَتْ روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم لِعُقْبَةَ جَذَعَةٌ فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ نے اپنے صحابہ کے درمیان کچھ قربانی کے جانور صَارَتْ لِي جَذَعَةٌ قَالَ ضَحِ بِهَا۔ تقسیم کئے اور حضرت عقبہ کو ایک کم عمر بکر وٹا ملا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! کم عمر بکر وٹا ملا أطرافه ۲۳۰۰ ، ٢٥٠٠، ٥٥٥٥ ہے ؟ آپ نے فرمایا: اس کی قربانی کر لو۔ باب : الْأُضْحِيَّةُ لِلْمُسَافِرِ وَالنِّسَاءِ مسافر اور عورتوں کا قربانی کرنا ٥٥٤٨ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۵۵۴۸: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ (بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبد الرحمن عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بن قاسم سے، عبدالرحمن نے اپنے باپ قاسم أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (بن محمد ) سے، قاسم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے دَخَلَ عَلَيْهَا وَحَاضَتْ بِسَرِفَ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَ مَكَّةَ وَهِيَ تَبْكِي فَقَالَ مَا پاس سرف (مقام) میں آئے اور انہیں مکہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی حیض آگیا تھا اور وہ رو لَكِ أَنفِسْتِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ إِنَّ هَذَا رہی تھیں۔ آپ نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ کیا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ تمہیں حیض آگیا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ نے فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ فرمایا: یہ ایک ایسا امر ہے جس کو اللہ نے آدم کی لَّا تَطُوْفِي بِالْبَيْتِ فَلَمَّا كُنَّا بِمِنّى بیٹیوں کے لئے مقدر کر دیا ہے۔ اس لئے جو کام أُتِيْتُ بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقُلْتُ مَا هَذَا ج کرنے والے کرتے ہیں وہ تم کرو مگر بیت اللہ قَالُوْا ضَحَّى رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله کا طواف نہ کرو۔ جب ہم منی میں پہنچے تو میرے