صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 498
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۹۸ ۷۳ - كتاب الأضاحي نسية ہے اور نسٹ کا لفظ عربی زبان میں فرمانبر داری اور بندگی کے معنوں میں آتا ہے اور ایسا ہی یہ لفظ یعنی نسک اُن جانوروں کے ذبح کرنے پر بھی زبان مذکور میں استعمال پاتا ہے جن کا ذبح کرنا مشروع ہے۔“ نیز فرمایا: خطبہ الہامیہ (ترجمه از عربی عبارت)، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۳۳۱ ۳۳) ”خدا تعالیٰ نے شریعت اسلام میں بہت سے ضروری احکام کے لئے نمونے قائم کئے ہیں چنانچہ انسان کو یہ حکم ہے کہ وہ اپنی تمام قوتوں کے ساتھ اور اپنے تمام وجود کے ساتھ خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان ہو۔پس ظاہری قربانیاں اسی حالت کے لئے نمونہ ٹھہرائی گئی ہیں لیکن اصل غرض یہی قربانی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَ لكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمُ (الحج: ۳۸) یعنی خدا کو تمہاری قربانیوں کا گوشت نہیں پہنچتا اور نہ خون پہنچتا ہے مگر تمہاری تقویٰ اس کو پہنچتی ہے۔یعنی اس سے اتناڈرو کہ گویا اس کی راہ میں مرہی جاؤ اور جیسے تم اپنے ہاتھ سے قربانیاں ذبح کرتے ہو۔اسی طرح تم بھی خدا کی راہ میں ذبح ہو جاؤ۔جب کوئی تقویٰ اس درجہ سے کم ہے تو ابھی وہ نا قص ہے۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۹۹ حاشیه ) بَاب ۱: سُنَّةُ الْأُضْحِيَّةِ قربانیوں میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ هِيَ سُنَّةٌ وَمَعْرُوفٌ اور حضرت ابن عمرؓ نے کہا: قربانی سنت ہے اور مشہور ہے۔٥٥٤٥: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۵۵۴۵: محمد بن بشار نے ہمیں بتایا کہ غند ر نے ہم حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ زُبَيْدٍ سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے الْإِيَامِيِّ عَنِ الشَّعْبِيّ عَنِ الْبَرَاءِ زبید ایامی سے، زبید نے شعبی سے شیعی نے حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى براء بن عازب) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم