صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 497
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۹۷ ۷۳ - كتاب الأضاحي -٧٣ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ -٧ - كِتابَ الْأَضَاحِي قربانیوں کے احکام 0000000 یہ کتاب ۱۶ ابواب اور ۳۰ احادیث پر مشتمل ہے۔اس میں قربانی کا طریق، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور قربانی کی روح اور مقاصد بیان کیے گئے ہیں۔یہ ضمون قرآن کریم، احادیث نبویہ اور حضرت اقدس مسیح موع علیہ السلام کی تحریرات کی روشنی میں ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلِكُلِ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا موعود لين كرُوا اسْمَ اللهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الأَنْعَامِ فَإِلَهُكُمُ اللهُ وَاحِدٌ فَلَةٌ أَسْلِمُوا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِيْنَ (الحج: ۳۵) اور ہم نے ہر اُمت کے لئے قربانی کا طریق مقرر کیا ہے تاکہ وہ اللہ کا نام اُس پر پڑھیں جو اس نے انہیں مویشی چوپائے عطا کئے ہیں پس تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے پس اس کے لئے فرمانبر دار ہو جاؤ اور عاجزی کرنے والوں کو بشارت دے دے۔(ترجمہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: قربانیاں وہی سواریاں ہیں کہ جو خدا تعالیٰ تک پہنچاتی ہیں اور خطاؤں کو محو کرتی ہیں اور بلاؤں کو دور کرتی ہیں۔یہ وہ باتیں ہیں جو ہمیں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے پہنچیں جو سب مخلوق سے بہتر ہیں ان پر خدا تعالیٰ کا سلام اور برکتیں ہوں۔“ (خطبہ الہامیه ( ترجمه از عربی عبارت)، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۴۵) نیز حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”اے خدا کے بندو! اپنے اس دن میں کہ جو بقر عید کا دن ہے غور کرو اور سوچو کیونکہ ان قربانیوں میں عقلمندوں کے لیے بھید پوشیدہ رکھے گئے ہیں۔۔اور ان کو اُن قربانیوں پر سبقت ہے کہ جو نبیوں کی پہلی امتوں کے لوگ کیا کرتے تھے۔اور یہ کام ہمارے دین میں اُن کاموں میں سے شمار کیا گیا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے قرب کا موجب ہوتے ہیں۔اسی وجہ سے ان ذبح ہونے والے جانوروں کا نام قربانی رکھا گیا کیونکہ حدیثوں میں آیا ہے کہ یہ قربانیاں خدا تعالیٰ کے قرب اور ملاقات کا موجب ہیں اس شخص کے لیے کہ جو قربانی کو اخلاص اور خدا پرستی اور ایمان داری سے ادا کرتا ہے اور یہ قربانیاں شریعت کی بزرگ تر عبادتوں میں سے ہیں اور اسی لیے قربانی کا نام عربی میں