صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 487 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 487

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۸۷ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد بَاب ٣٦ : إِذَا أَصَابَ قَوْمٌ غَنِيمَةً فَذَبَحَ بَعْضُهُمْ غَنَمًا أَوْ إِبِلًا بِغَيْرِ أَمْرِ أَصْحَابِهَا لَمْ تُؤْكَلْ اگر کچھ لوگوں نے غنیمت کا مال پایا ہو اور ان میں سے بعض نے کچھ بکریاں یا اونٹ بغیر اپنے ساتھیوں کی اجازت کے ذبح کر لئے ہوں، وہ کھائے نہ جائیں لحَدِيْثِ رَافِعٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله کیونکہ حضرت رافع نے نبی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ وَقَالَ طَاوُسٌ وَعِكْرِمَةُ حدیث روایت کی۔ اور طاؤس اور عکرمہ نے چور فِي ذَبِيحَةِ السَّارِقِ اطْرَحُوْهُ۔ کے ذبیحہ کے متعلق کہا کہ اس کو پھینک دو۔ ٥٥٤٣ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۵۵۴۳ مسدد نے ہمیں بتایا۔ ابو الا حوص (سلام أَبُو الْأَحْوَصِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بن سلیم) نے ہم سے بیان کیا کہ سعید بن مسروق مَسْرُوقٍ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ أَبِيْهِ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عبایہ بن رفاعہ عَنْ جَدِهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ قُلْتُ سے عبایہ نے اپنے باپ سے ، ان کے باپ نے احضرت رافع بن خدیج سے روایت لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّنَا ان کے دادا حضرت را تَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُى کی۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ الله سے پوچھا کہ ہم کل دشمن سے مقابلہ کریں گے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں۔ آپ نے فرمایا: جو فَكُلُوْهُ مَا لَمْ يَكُنْ مِنْ وَلَا ظُفُرْ بھی خون کو بہادے اور اس پر اللہ کا نام لیا جائے وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ أَمَّا السِّن اس کو کھاؤ بشر طیکہ دانت یا ناخن نہ ہوں اور میں فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفْرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ تمہیں اس کی وجہ بتاتا ہوں کہ دانت تو ہڈی ہے، وَتَقَدَّمَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَأَصَابُوْا مِنَ اور ناخن حبشیوں کی چھریاں ہیں۔ اور لوگوں الْغَنَائِمِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں سے جلد باز آگے بڑھے اور انہوں نے کچھ فِي آخِرِ النَّاسِ فَنَصَبُوْا قُدُوْرًا فَأَمَرَ غنیمت کے مال پائے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بِهَا فَأُكْفِئَتْ وَقَسَمَ بَيْنَهُمْ وَعَدَلَ لوگوں کے اخیر میں تھے۔ اور انہوں نے ہانڈیاں بَعِيْرًا بِعَشْرِ شِيَاءٍ ثُمَّ نَدَّ مِنْهَا بَعِيْرٌ چڑھا دیں۔ آپ نے ان کے متعلق حکم دیا اور وہ