صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 486 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 486

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۸۶ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ تُعْلَمَ الصُّوْرَةُ سے ، سالم نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کرتے وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ ہوئے بتایا کہ انہوں نے منہ پر نشان لگانے کو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُضْرَبَ تَابَعَهُ قُتَيْبَةُ نا پسند کیا۔اور حضرت ابن عمرؓ نے کہا: نبی صلی اللہ قَالَ حَدَّثَنَا الْعَنْقَرِيُّ عَنْ حَنْظَلَةَ علیہ وسلم نے مارنے سے منع کیا۔(عبید اللہ بن وَقَالَ تُضْرَبُ الصُّوْرَةُ۔موسیٰ کی طرح) قتیبہ بن سعید) نے بھی اس حدیث کو بیان کیا، کہا کہ (عمر و بن محمد ) عنقری نے حنظلہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا اور انہوں نے یوں کہا: منہ پر مارنے سے۔٥٥٤٢ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ۵۵۴۲: ابو الولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ عَنْ أَنَسٍ ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام بن زید سے ، ہشام نے قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ حضرت انس سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَحْ لِي يُحَتِكُهُ وَهُوَ فِي في صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے ایک بھائی کو مِرْبَدٍ لَهُ فَرَأَيْتُهُ يَسِمُ شَاةً حَسِبْتُهُ لے گیا کہ آپ اس کو گھٹی دیں اور اس وقت آپ اپنے ایک اونٹوں کے تھان (باڑہ) میں تھے۔میں نے آپ کو دیکھا کہ بکری کو داغ دے رہے ہیں۔(شعبہ نے کہا:) میرا یہ خیال ہے کہ اس ( ہشام) نے کہا: اس کے کان پر۔قَالَ فِي آذَانِهَا۔أطرافه: ١٥٠٢، ٥٨٢٤ -