صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 483
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۸۳ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا عورتوں میں سے کسی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ يُرِيْدُ أَنْ يَأْكُلَ فَقَالُوْا هُوَ ضَبٌ يَا علیہ وسلم کو بتاؤ جس چیز کو آپ کھانے لگے ہیں، رَسُوْلَ اللهِ فَرَفَعَ يَدَهُ فَقُلْتُ أَحَرَامٌ انہوں نے کہا: یہ گوہ ہے یا رسول اللہ ! ( یہ سنتے هُوَ يَا رَسُوْلَ اللهِ فَقَالَ لَا وَلَكِنْ لَّمْ ہی آپ نے اپنا ہاتھ اٹھا لیا۔میں نے پوچھا: کیا وہ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ حرام ہے یا رسول اللہ ؟ آپ نے فرمایا: نہیں مگر قَالَ خَالِدٌ فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُوْلُ میری قوم کی سر زمین میں یہ نہیں ہوتی اس لئے اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ۔میں اپنے آپ کو اس سے نفرت کرتے ہوئے پاتا ہوں۔خالد نے کہا: یہ سن کر میں نے اس کو اپنی أطرافه : ٥٣٩١ ٥٤٠٠۔طرف گھسیٹ لیا اور اس کو کھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے۔یح : الصب: گوہر احادیث الباب میں یہ ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گو (سوسمار) کونہ حرام قرار دیا اور نہ ہی کھانا پسند فرمایا مگر آپ کے سامنے آپ کے دستر خوان پر گوہ کھائی گئی اور آپ نے منع نہیں فرمایا۔بالکل اسی طرح کا ذکر آپ کے غلام صادق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق آپ کے معروف صحابی حضرت میر محمد اسمعیل صاحب رضی اللہ عنہ کرتے ہیں: حضور کے سامنے دو ایک دفعہ گوہ کا گوشت پیش کیا گیا مگر آپ نے فرمایا کہ جائز ہے۔جس کا جی چاہے کھا لے مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چونکہ اس سے کراہت فرمائی اس لیے ہم کو بھی اس سے کراہت ہے۔اور جیسا کہ وہاں ہوا تھا یہاں بھی لوگوں نے آپ کے مہمان خانہ بلکہ گھر میں بھی کچھ بچوں اور لوگوں نے گوہ کا گوشت کھایا مگر آپ نے اسے اپنے قریب نہ آنے دیا۔“ (سیرت المہدی مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے رضی اللہ عنہ ، جلد دوم صفحہ ۴۲۳)