صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 22 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 22

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۲ ۶۷ - كتاب النكاح خَطَبَ عَائِشَةَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ لَهُ سے ، عراک نے عروہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ أَبُو بَكْرٍ إِنَّمَا أَنَا أَخُوكَ فَقَالَ لَهُ عليه وسلم نے حضرت ابو بکر کو حضرت عائشہ سے أَنْتَ أَخِي فِي دِينِ لي حلال۔اللهِ وَكِتَابِهِ وَهِيَ شادی کرنے کا پیغام بھیجا تو حضرت ابوبکر نے آپ سے کہا: میں تو آپ کا بھائی ہوں۔آپ نے ان سے فرمایا: تم میرے بھائی ہو اللہ کے دین میں اور اس کی کتاب کی رُو سے اور عائشہ میرے لئے حلال ہے۔تشريح : تَزْوِيجُ الصَّغَارِ مِنَ الْكبار : یعنی چھوٹی عمر والیوں کا بڑوں سے نکاح کرنا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " خاص حالات میں اسلام نے چھوٹی عمر کی شادی کی اجازت دی ہے مگر عام حالات میں اسے پسند نہیں کیا تا کہ نہ تو نسل کی صحت پر کوئی خراب اثر پڑے اور نہ بعد میں امکانی جھگڑے اٹھ کر باہمی تعلقات میں تلخی پیدا کرنے کا موجب بنیں۔البتہ اگر کوئی خاص خاندانی یا قومی فوائد متوقع ہوں تو استثنائی صورت میں چھوٹی عمر میں بھی شادی ہو سکتی ہے۔“ (مضامین بشیر ، خاندانی منصوبہ بندی، جلد ۳ صفحه ۷۲۱) ایک آریہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے شادی پر با ایں الفاظ اعتراض کیا: سمبھلا اس مسئلہ پر بھی کبھی توجہ فرمائی ہے کہ حضرت رسول خدا محمد صاحب کا اپنی بیوی حضرت عائشہ نو سالہ سے ہم بستر ہونا کیا اولاد پیدا کرنے کی نیت سے تھا؟“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: "أما الجواب۔یہ اعتراض محض جہالت کی وجہ سے کیا گیا ہے۔کاش اگر نادان معترض پہلے کسی محقق ڈاکٹر یا طبیب سے پوچھ لیتا تو اس اعتراض کرنے کے وقت بجز اس کے کسی اور نتیجہ کی توقع نہ رکھتا کہ ہر یک حقیقت شناس کی نظر میں نادان اور احمق ثابت ہو گا۔ڈاکٹر مون صاحب جو علوم طبعی اور طبابت کے ماہر اور انگریزوں میں بہت مشہور محقق ہیں وہ لکھتے ہیں کہ گرم ملکوں میں عور تیں آٹھ یا نو برس کی عمر میں شادی کے لائق ہو جاتی ہیں۔کتاب موجود ہے تم بھی اسی جگہ ہو اگر طلب حق ہے تو آکر دیکھ لو۔اور حال میں ایک ڈاکٹر صاحب جنہوں نے کتاب