صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 469 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 469

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۶۹ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد يَعْنِي الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ابو قلابہ نے زہدم (بن مضرب) جرمی سے ، زہدم رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ يَأْكُل دَجَاجًا۔علیہ وسلم کو مرغی کھاتے دیکھا۔أطرافه : ۳۱۳۳ ٤٣٨٥، ٤٤١٥، ۲۰۱۸، ٦٦٢۳ ٦٦٤٩ ٦٦٧٨ ، ٦٦٨٠، ٦٧١٨، ۷۱۹، ٦۷۲۱، ٧٥٥٥۔٥٥١٨ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَر حَدَّثَنَا :۵۵۱۸ ابو معمر نے ہمیں بتایا کہ عبد الوارث (بن عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ أَبِي (سعید) نے ہم سے بیان کیا۔ہمیں ایوب بن ابی تَمِيْمَةَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ زَهْدَمٍ قَالَ تمیر نے بتایا۔ایوب نے قاسم (بن عاصم تمیمی) كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ وَكَانَ سے ، قاسم نے زہدم سے روایت کی۔انہوں نے بَيْنَنَا وَبَيْنَ هَذَا الْحَيِّ مِنْ جَرْمِ إِخَاءُ کہا: ہم حضرت ابو موسیٰ اشعری کے پاس تھے اور فَأْتِيَ بِطَعَامٍ فِيْهِ لَحْمُ دَجَاجٍ وَفِي ہمارے اور اس جرم قبیلے کے درمیان برادری تھی۔اتنے میں کھانا لایا گیا جس میں مرغی کا گوشت تھا۔اور لوگوں میں ایک شخص بیٹھا ہوا تھا الْقَوْمِ رَجُلٌ جَالِسٌ أَحْمَرُ فَلَمْ يَدْنُ مِنْ طَعَامِهِ فَقَالَ ادْنُ فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جو سرخ رنگ کا تھا وہ کھانے کے قریب نہیں آیا۔حضرت ابو موسیٰ نے کہا: آؤ میں نے رسول اللہ يَأْكُلْ مِنْهُ قَالَ إِنِّي رَأَيْتُهُ أَكَلَ شَيْئًا صلی اللہ علیہ وسلم کو مرغی کا گوشت کھاتے دیکھا فَقَذِرْتُهُ فَحَلَفْتُ أَنْ لَّا آكُلَهُ فَقَالَ ہے۔وہ بولا : میں نے اسے کچھ کھاتے دیکھا تھا تو ادْنُ أُخْبِرْكَ أَوْ أُحَدِّثْكَ إِنِّي أَتَيْتُ مجھے اس سے کراہت آئی اور میں نے قسم کھائی النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ کہ اسے نہ کھاؤں گا۔حضرت ابوموسیٰ نے کہا: مِنَ الْأَشْعَرِيْنَ فَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ نزدیک آؤ میں تمہیں بتاتا ہوں یا کہا: میں تم سے وَهُوَ يَقْسِمُ نَعَمَّا مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ بیان کرتا ہوں۔میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فَاسْتَحْمَلْنَاهُ فَحَلَفَ أَنْ لَّا يَحْمِلَنَا پاس کچھ اشعری لوگوں کے سمیت آیا۔میں قَالَ مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ ثُمَّ اتفاقاً آپ کے پاس ایسے وقت میں پہنچا کہ آپ