صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 467
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۶۷ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد عَنْ أَبِيْهِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ انہوں نے ان کو بیان کرتے ہوئے سنا۔ان کے عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى باپ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي کی کہ وہ یحییٰ بن سعید (بن عاص) کے پاس گئے يَحْيَى رَابِطُ دَجَاجَةٌ يَرْمِيهَا فَمَشَى اور يحی کے بیٹوں میں سے ایک لڑکے نے ایک إِلَيْهَا ابْنُ عُمَرَ حَتَّى حَلَّهَا ثُمَّ أَقْبَلَ مرغی باندھی ہوئی تھی۔اس پر تیر کا نشانہ مار رہا بِهَا وَبِالْغُلَامِ مَعَهُ فَقَالَ ازْجُرُوا تھا۔حضرت ابن عمر اس مرغی کے پاس گئے اور غُلَامَكُمْ عَنْ أَنْ يُصْبِرَ هَذَا الطَّيْرَ جاکر اس کو کھول دیا اور پھر اس مرغی کو لے کر لِلْقَتْلِ فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله مع اس لڑکے کے بچی کے پاس آئے اور کہنے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُصْبَرَ بَهِيْمَةٌ أَوْ لگے: اپنے اس لڑکے کو سختی سے رو کو کہ اس پرندہ غَيْرُهَا لِلْقَتْل۔کو اس طرح باندھ کر مارا نہ کرے کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ نے چوپایا یا اس کے سوا کسی دوسرے جانور کو مارنے کے لئے اس طرح باندھنا منع فرمایا۔٥٥١٥: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ۵۵۱۵: ابو نعمان (محمد بن فضل سدوسی) نے ہم أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشَرِ عَنْ سَعِيدِ سے بیان کیا کہ ابوعوانہ (وضاح بیشکری) نے بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ ہمیں بتایا۔انہوں نے ابو بشر (جعفر بن ابی وحشیہ) فَمَرُّوْا بِفِتْيَةٍ أَوْ بِنَفَرٍ نَصَبُوْا دَجَاجَةً ہے، ابوبشر نے سعید بن جبیر سے روایت کی۔فَلَمَّا رَأَوْا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوْا انہوں نے کہا: میں حضرت ابن عمر کے پاس تھا تو يَرْمُوْنَهَا عَنْهَا وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ مَنْ فَعَلَ هَذَا وہ چند نوجوانوں یا (کہا) کچھ آدمیوں کے پاس سے گزرے کہ جنہوں نے ایک مرغی کو باندھ کر إِنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ کھڑا کیا ہوا تھا اور اس پر نشانہ کر رہے تھے۔جب مَنْ فَعَلَ هَذَا تَابَعَهُ سُلَيْمَانُ عَنْ انہوں نے حضرت ابن عمر کو دیکھا تو وہ اس کو شُعْبَةَ حَدَّثَنَا الْمِنْهَالُ عَنْ سَعِيْدٍ عَنِ چھوڑ کر منتشر ہو گئے۔حضرت ابن عمر نے کہا: یہ