صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 445
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۴۵ ۷۲ - كتاب الذبائح والصيد ارم وَسَلَّمَ كُلُّ شَيْءٍ فِي الْبَحْرِ مَذْبُوْحٌ کراہت کرے، اور بام مچھلی کو یہود نہیں کھاتے وَقَالَ عَطَاءٌ أَمَّا الطَّيْرُ فَأَرَى أَنْ اور ہم کھا لیتے ہیں۔ اور حضرت شریح " جو نبی تَذْبَحَهُ۔ وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ قُلْتُ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے، نے کہا: ہر جانور جو لِعَطَاءٍ صَيْدُ الْأَنْهَارِ وَقِلَاتِ السَّيْلِ سمندر میں ہے وہ ذبح کیا ہوا یعنی حلال ہے۔ اور أَصَيْدُ بَحْرٍ هُوَ قَالَ نَعَمْ ثُمَّ تَلَا هُذَا عطاء بن ابی رباح) نے کہا: پرندہ تو میں سمجھتا ہوں عَذَبٌ فُرَاتٌ سَابِع شَرَابُهُ وَ هُذَا مِلْحٌ ذبح کیا جائے۔ اور ابن جریج نے کہا: میں نے عطاء أجاج وَ مِنْ كُلِّ تَأْكُلُونَ لَحْمًا طَرِيًّا بن ابی رباح) سے پوچھا: ندیوں اور نالوں کا شکار (فاطر: (۱۳) وَرَكِبَ الْحَسَنُ عَلَی بھی سمندر ہی کے شکار ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ سَرْجِ مِنْ جُلُودِ كِلَابِ الْمَاءِ۔ وَقَالَ پھر عطاء نے یہ آیت پڑھی: یہ میٹھا نہایت ہی الشَّغْبِيُّ لَوْ أَنَّ أَهْلِي أَكَلُوا الصَّفَادِعَ شیریں پیاس بجھانے والا پانی ہے ہے اور یہ نہایت تلخ گوشت لَأَطْعَمْتُهُمْ وَلَمْ يَرَ الْحَسَن کھاری ہے اور ہر ایک سے تم تازہ بتازہ کھاتے ہو۔ اور حضرت حسن (رضی اللہ عنہ ) ایسے بِالسُّلَحْفَاةِ بَأْسًا۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كُلِّ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ نَصْرَانِي أَو زمین پر سوار ہوئے جو دریائی کتوں کی کھالوں سے بنی ہوئی تھی۔ اور شعبی نے کہا: اگر میرے گھر يَهُودِي أَوْ مَجُوسِي وَقَالَ أَبُو والے مینڈک کھائیں تو میں ان کو ضرور کھلاؤں۔ الدَّرْدَاءِ فِي الْمُرِي ذَبَحَ الْخَمْرَ اور حسن (بصری) نے کچھوے کھانے میں کچھ حرج النِّيْنَانُ وَالشَّمْسُ۔ نہیں سمجھا۔ اور حضرت ابن عباس نے کہا: دریا کا شکار کھاؤ خواہ عیسائی نے کیا ہو یا یہودی نے یا کسی مجوسی نے۔ اور حضرت ابو درداء نے اس مچھلی کے کھانے کا فتویٰ دیا جو شراب میں ڈال دی گئی ہو اور سور سورج کی دھوپ اس پر پڑی ہو۔ ٥٤٩٣ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۵۴۹۳: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ بچي (بن يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ ان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن جریج