صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 413 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 413

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۴۱۳ ا - كتاب العقيقة فَجَعَلَهَا فِي فِي الصَّبِيِّ وَحَنَّكَهُ بِهِ علیہ وسلم نے اس بچے کو لیا اور پوچھا: کیا اس کے وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللهِ۔ طرفه ۱۳۰۱ - ساتھ کچھ بھیجا ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں کچھ کھجوریں ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو لیا اس کو چہایا۔ پھر اپنے منہ سے نکال کر بچے کے منہ میں ڈالیں اور آپؐ نے اس کو اس کی گھٹی دی اور اس کا نام عبد اللہ رکھا۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا ابْنُ محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی عدی أَبِي عَدِيٌّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن عون سے ، ابن عون عَنْ أَنَسٍ۔۔۔ وَسَاقَ الْحَدِيثَ۔ نے محمد بن سیرین) سے، محمد نے حضرت انس سے روایت کی اور پھر اسی حدیث کو بیان کیا۔ تشريح تَسْمِيَةُ الْمَوْلُودِ غَدًا لَا يُولَدُ وَتَحْدِيكُهُ : اس دن بچے کا نام رکھنا جس دن کہ وہ پیدا ہوا اور بچے کو گھٹی دینا۔ گھٹی دینے کے لیے مسنون طریق یہ ہے کہ کھجور کو نرم کر کے بچے کے منہ میں ڈالا جائے۔ اگر کھجور میسر نہ ہو تو کسی بھی میٹھی چیز سے تحنیک کی جاسکتی ہے، نیز میٹھی چیزوں میں شہد سب سے زیادہ بہتر ہے۔ کہتے ہیں الْحَنَكَ مِنَ الْإِنسان وَالدَّابَّةِ : بَاطِنُ أَعْلَى الْفَمِ مِنْ دَاخِل جنگ کے معنی ہیں انسان یا جانور کے منہ کے اندر کا اوپر والا حصہ ( تالو) التحنيك : أَن تَمْضُعَ التَّمْرَ ثُمَّ تَدْلُكُهُ بِحَنَكِ الصَّبِيِّ دَاخِلَ فيهِ (لسان العرب - حنك) تحنيك كا معنی ہے کھجور کو باریک کر کے بچہ کے منہ کے اندر تالو پر ملنا۔ باب ھذا میں چار روایات ہیں۔ جن میں چار بچوں حضرت ابو موسیٰ کے بیٹے، حضرت اسماء کے بیٹے، حضرت ابو طلحہ کے بیٹے، اور ایک اور بچہ جس کا نام اس روایت میں نہیں بتایا گیا، کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹی دینے کا ذکر ہے۔ ان روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تبرک کو بطور گھٹی استعمال کیا گیا۔ اور ان بچوں کے والدین اسی بات کا بطور خاص ذکر کرتے تھے کہ ہمارے بچہ کے پیٹ میں سب سے پہلی چیز جو گئی وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن تھا۔ اسی سنت سے امت مسلمہ میں یہ طریق چلا آرہا ہے کہ بچوں کی پیدائش پر کسی پارسا اور پاک طینت غیر معمولی خوبیوں اور صفات کے مالک افراد سے بچوں کو گھٹی دلائی جاتی ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس مبارک وجود کی پاک تاثیرات اس بچے کی سیرت اور کردار بنانے میں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ اردو میں یہ بات