صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 412 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 412

صحیح البخاری جلد ۱۳ أَصَابَ مِنْهَا فَلَمَّا فَرَغَ قَالَتْ وَارِ الصَّبِيَّ فَلَمَّا أَصْبَحَ أَبُو طَلْحَةَ أَتَى رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ أَعْرَسْتُمُ اللَّيْلَةَ قَالَ ۱۳ م ا - كتاب العقيقة ٥٤٧٠: حَدَّثَنِي مَطَرُ بْنُ الْفَضْلِ ۵۴۷۰: مطر بن فضل نے مجھے بتایا کہ یزید بن حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُوْنَ أَخْبَرَنَا ہارون نے ہم سے بیان کیا کہ عبد اللہ بن عون نے عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيْرِيْنَ ہمیں خبر دی۔انہوں نے انس بن سیرین سے، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ انس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قَالَ كَانَ ابْنُ لِأَبِي طَلْحَةَ يَشْتَكِي روایت کی۔انہوں نے کہا: حضرت ابو طلحہ کا ایک فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ فَقُبِضَ الصَّبِيُّ بیٹا بیمار تھا۔حضرت ابو طلحہ کہیں باہر گئے اور وہ بچہ فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو طَلْحَةَ قَالَ مَا فَعَلَ فوت ہو گیا۔جب حضرت ابو طلحہ کوٹے، پوچھنے قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ هُوَ أَسْكَنُ مَا لئے میرے بیٹے کا کیا حال ہے ؟ حضرت ام سلیم ابْنِي كَانَ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ الْعَشَاءَ فَتَعَشَّى ثُمَّ نے کہا: اسے پہلے سے بہت آرام ہے اور حضرت اتم سلیم نے ان کے سامنے شام کا کھانا رکھا اور انہوں نے کھایا۔پھر انہوں نے ان سے تعلق قائم کیا۔جب فارغ ہوئے تو کہنے لگیں: بچے کو دفن کر آؤ۔جب حضرت ابو طلحہ صبح کو اٹھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے یہ نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمَا فِي واقعہ بیان کیا۔آپ نے یہ سن کر فرمایا: آج رات لَيْلَتِهِمَا فَوَلَدَتْ غُلَامًا۔قَالَ لِي أَبُو تم آپس میں ملے ہو ؟ انہوں نے کہا: ہاں۔آپ طَلْحَةَ احْفَظْهُ حَتَّى تَأْتِيَ بِهِ النَّبِيَّ نے فرمایا: اے اللہ ! ان دونوں کے لئے یہ رات صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ مبارک کر۔تو حضرت ام سلیم نے ایک لڑکا جنا۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَرْسَلَتْ مَعَهُ حضرت انس کہتے تھے : ) مجھے حضرت ابو طلحہ نے فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کہا: اس بچہ کو حفاظت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وَسَلَّمَ فَقَالَ أَمَعَهُ شَيْءٌ قَالُوا نَعَمْ پاس لے جاؤ۔چنانچہ وہ اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تَمَرَاتٌ فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کے پاس لے آئے اور حضرت ام سلیم نے اس وَسَلَّمَ فَمَضَغَهَا ثُمَّ أَخَذَ مِنْ فِيْهِ کے ساتھ کچھ کھجوریں بھی بھیجیں۔نبی صلی اللہ بتَمَرَاتِ ย