صحیح بخاری (جلد سیز دھم)

Page 16 of 611

صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 16

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۶ ۶۷ - كتاب النكاح يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ ( المائدة : ٨٨) عوض میں نکاح کرلیں۔ پھر آپ نے ہمارے سامنے یہ آیت پڑھی: يَأَيُّهَا الَّذِينَ یعنی اے وہ جو ایمان لائے ہو! پاکیزہ چیزیں جو اللہ نے تمہارے طرفه: ٥٠٧١ لئے جائز قرار دی ہیں حرام قرار نہ دو، حد سے نہ بڑھو، اللہ حد سے بڑھنے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔ ٥٠٧٦ : وَقَالَ أَصْبَعُ أَخْبَرَنِي ابْنُ ۵۰۷۶ اور اصبغ (بن فرج) نے کہا: (عبد اللہ ) وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ ابن وہب نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے یونس بن شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يزيد (ایلی) سے، یونس نے ابن شہاب سے ، ابن رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ شہاب نے ابو سلمہ (عبداللہ بن عبدالرحمن بن إِنِّي رَجُلٌ شَابٌ وَأَنَا أَخَافُ عَلَى (عرف) سے، ابوسلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ وہ کہتے تھے: نَفْسِي الْعَنَتَ وَلَا أَجِدُ مَا أَتَزَوَّجُ بِهِ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! میں جوان مرد النِّسَاءَ فَسَكَتَ عَنِّي۔ ثُمَّ قُلْتُ مِثْلَ ہوں اور میں اپنے متعلق ڈرتا ہوں کہ کہیں گناہ نہ ذَلِكَ فَسَكَتَ عَنِّي۔ ثُمَّ قُلْتُ مِثْلَ کر بیٹھوں اور میں اتنی استطاعت بھی نہیں رکھتا ذَلِكَ فَسَكَتَ عَنِّي۔ ثُمَّ قُلْتُ مِثْلَ کرہ جس سے عورتوں سے شادی کروں۔ آپ میری ذَلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بات سن کر خاموش ہو رہے۔ پھر میں نے ویسے وَسَلَّمَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا ہی کہا۔ آپ پھر خاموش رہے۔ پھر میں نے ویسے أَنْتَ لَاقٍ فَاخْتَصِ عَلَى ذَلِكَ أَوْ ذَرْ ہی کہا۔ تب بھی آپ خاموش رہے۔ پھر میں نے ویسے ہی کہا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو ہریرہ! جو تمہیں ملنا تھا اُس کو لکھ کر قلم خشک ہو گئی۔ اس تقدیر کے ہوتے ہوئے اب خصی کرویا نہ کرو۔ تشريح : مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّبَتُلِ والخصاء : عن حجر در بنا اور صی کرنا جو کرنا جو نا پسندیدہ ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: جس کو نکاح میسر نہ آوے چاہئے کہ وہ اپنی عفت کو دوسرے طریقوں سے