صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 17
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۷ ۶۷ - كتاب النكاح بچاوے۔مثلاً روزہ رکھے یا کم کھاوے یا اپنی طاقتوں سے تن آزار کام لے اور اور لوگوں نے یہ بھی طریق نکالے ہیں کہ وہ ہمیشہ عمد انکاح سے دست بردار رہیں یا خوجے بنیں اور کسی طریق سے رہبانیت اختیار کریں۔مگر ہم نے انسان پر یہ حکم فرض نہیں کئے اس لئے وہ ان بدعتوں کو پورے طور پر نبھانہ سکے۔خدا کا یہ فرمانا کہ ہمارا یہ حکم نہیں کہ لوگ خوجے بنیں۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ اگر خدا کا حکم ہوتا تو سب لوگ اس حکم پر عمل کرنے کے مجاز بنتے تو اس صورت میں بنی آدم کی قطع نسل ہو کر کبھی کا دنیا کا خاتمہ ہو جاتا۔اور نیز اگر اس طرح پر عفت حاصل کرنی ہو کہ عضو مردمی کو کاٹ دیں تو یہ در پر وہ اس صانع پر اعتراض ہے جس نے وہ عضو بنایا اور نیز جبکہ ثواب کا تمام مدار اس بات پر ہے کہ ایک قوت موجود ہو اور پھر انسان خدا تعالیٰ کا خوف کر کے اس قوت کے خراب جذبات کا مقابلہ کرتا رہے۔اور اس کے منافع سے فائدہ اٹھا کر دو طور کا ثواب حاصل کرے۔پس ظاہر ہے کہ ایسے عضو کے ضائع کر دینے میں دونوں ثوابوں سے محروم رہا۔ثواب تو جذبہ مخالفانہ کے وجود اور پھر اس کے مقابلہ سے ملتا ہے۔مگر جس میں بچہ کی طرح وہ قوت ہی نہیں رہی اس کو کیا ثواب ملے گا۔کیا بچہ کو اپنی عفت کا ثواب مل سکتا ہے؟“ (اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی ختنه ائن جلد ۱۰ صفحه ۳۴۳،۳۴۲) بَاب : نِكَاحُ الْأَبْكَارِ کنواریوں سے نکاح کرنا وَقَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ ابن ابی ملیکہ کہتے تھے: حضرت ابن عباس نے لِعَائِشَةَ لَمْ يَنْكِحَ النَّبِيُّ صَلَّى الله حضرت عائشہ سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكْرًا غَيْرَكِ۔آپ کے سوا کسی کنواری سے نکاح نہیں کیا۔٥٠٧٧ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ ۵۰۷۷: اسماعیل بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا، عَبْدِ اللهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي عَنْ کہا: میرے بھائی (عبدالحمید) نے مجھے بتایا۔انہوں سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ نے سلیمان ( بن بلال) سے، سلیمان نے ہشام بن عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ