صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 12
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۳ ۶۷ - كتاب النكاح ہے اجازت دیتا ہے کہ ایسی ضرورتوں کے لحاظ سے ایک سے زیادہ بیویاں کرے۔ایسا ہی اولاد کے نہ ہونے پر جبکہ لاولد کے پس مرگ خاندان میں بہت سے ہنگامے اور گشت و خون ہونے تک نوبت پہنچ جاتی ہے ایک ضروری امر ہے کہ وہ ایک سے زیادہ بیویاں کر کے اولاد پیدا کرے۔بلکہ ایسی صورت میں نیک اور شریف بیبیاں خود اجازت دے دیتی ہیں۔پس جس قدر غور کرو گے یہ مسئلہ صاف اور روشن نظر آئے گا۔عیسائی کو تو حق ہی نہیں پہنچتا کہ اس مسئلہ پر نکتہ چینی کرے۔کیونکہ ان کے مسلمہ نبی اور ملہم بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام کے بزرگوں نے سات سات سو اور تین تین سو بیبیاں کیں اور اگر وہ کہیں کہ وہ فاسق فاجر تھے تو پھر ان کو اس بات کا جواب دینا مشکل ہو گا کہ ان کے الہام خدا کے الہام کیوں کر ہو سکتے ہیں۔عیسائیوں میں بعض فرقے ایسے بھی ہیں جو نبیوں کی شان میں ایسی گستاخیاں جائز نہیں رکھتے۔علاوہ ازیں انجیل میں صراحت سے اس مسئلہ کو بیان ہی نہیں کیا گیا۔لنڈن کی عورتوں کا زور ایک باعث ہو گیا کہ دوسری عورت نہ کریں پھر اس کے نتائج خود دیکھ لو کہ لنڈن اور پیرس میں عفت اور تقویٰ کی کیسی قدر ہے۔“( ملفوظات جلد اول صفحہ ۱۸۷) بَاب ٥ : مَنْ هَاجَرَ أَوْ عَمِلَ خَيْرًا لِتَزْوِيجِ امْرَأَةٍ فَلَهُ مَا نَوَى جس نے کسی عورت سے شادی کرنے کے لئے ہجرت کی یا نیک کام کیا تو اُس کو وہی ملے گا جو اُس نے نیت کی ٥٠٧٠ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ ۵۰۷۰: يحي بن قزعہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یحی بن سعید (انصاری) عَنْ مُّحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ سے، بیٹی نے محمد بن ابراہیم بن حارث (تیمی) عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ سے، انہوں نے علقمہ بن وقاص (بن محصن) سے، الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ علقمہ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَمَلُ بِالنِّيَّةِ روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ فرمایا: ہر عمل نیت پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملتا ہے جو هِجْرَتُهُ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ اُس نے نیت کی ہوتی ہے۔سوجس کی ہجرت اللہ اور