صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 11
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۶۷ - كتاب النكاح قَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ هَلْ بن جبیر سے روایت کی۔انہوں نے کہا: مجھ سے تَزَوَّجْتَ؟ قُلْتُ لَا قَالَ فَتَزَوَّجْ فَإِنَّ حضرت ابن عباس نے پوچھا: کیا تم نے شادی کی خَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَكْثَرُهَا نِسَاءً۔ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔انہوں نے کہا: شادی کرلو کیونکہ اس امت میں سے جو بہتر تھے انہی کی زیادہ بیویاں تھیں۔ح: كثرة النساء یعنی تعدد ازدواج - حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: کثرت ازدواج کے متعلق صاف الفاظ قرآن کریم میں دو دو تین تین چار چار کر کے ہی آرہے ہیں مگر اسی آیت میں اعتدال کی بھی ہدایت ہے۔اگر اعتدال نہ ہو سکے اور محبت ایک طرف زیادہ ہو جائے یا آمدنی کم ہو اور یا قوائے رجولیت ہی کمزور ہوں تو پھر ایک سے تجاوز کرنا نہیں چاہیے۔ہمارے نزدیک یہی بہتر ہے کہ انسان اپنے تئیں ابتلا میں نہ ڈالے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ (البقرة: ١٩١) (ملفوظات جلد اول صفحه ۱۵۴) فرمایا: کثرت ازدواج پر اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام نے بہت عورتوں کی اجازت دی ہے۔ہم کہتے ہیں کہ کیا کوئی ایسا دلیر اور مرد میدان معترض ہے جو ہم کو یہ دکھلا سکے کہ قرآن کہتا ہے کہ ضرور ضرور ایک سے زیادہ عورتیں کرو۔ہاں یہ ایک سچی بات ہے۔اور بالکل طبعی امر ہے کہ اکثر اوقات انسان کو ضرورت پیش آجاتی ہے کہ وہ ایک سے زیادہ عور تیں کرے۔مثلاً عورت اندھی ہو گئی یا کسی اور خطرناک مرض میں مبتلا ہو کر اس قابل ہو گئی کہ خانہ داری کے امور سر انجام نہیں دے سکتی۔اور مرد از راہ ہمدردی یہ بھی نہیں چاہتا کہ اسے علیحدہ کرے یارحم کی خطرناک بیماریوں کا شکار ہو کر مرد کی طبعی ضرورتوں کو پورا نہیں کر سکتی تو ایسی صورت میں اگر نکاح ثانی کی اجازت نہ ہو تو بتلاؤ کیا اس سے بدکاری اور بد اخلاقی کو ترقی نہ ہو گی ؟ پھر اگر کوئی مذہب و شریعت کثرت ازدواج کو روکتی ہے تو یقینا وہ بدکاری اور بد اخلاقی کی مؤید ہے۔لیکن اسلام جو دنیا سے بد اخلاقی اور بدکاری کو دور کرنا چاہتا