صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 304
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۶۹ - كتاب النفقات ٥٣٦٠ : حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا :۵۳۶۰: يجي (بن جعفر ) نے ہم سے بیان کیا کہ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَّعْمَرٍ عَنْ هَمَّامٍ قَالَ عبد الرزاق نے ہمیں بتایا۔انہوں نے معمر (بن سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ راشد سے معمر نے ہمام بن منبہ) سے روایت النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا کی۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: اگر عورت اپنے خاوند کی کمائی سے بغیر اُس کے حکم أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ كَسْبِ زَوْجِهَا مِنْ غَيْرِ أَمْرِهِ فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِهِ۔کے خرچ کرے تو اس کے خاوند کو بھی اس خرچ کا آدھا ثواب ملے گا۔أطرافه : ٢٠٦٦، ۵۱۹۲، ۵۱۹۰- بابه وَقَالَ اللهُ تَعَالَى وَالْوَالِداتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ إِلَى قَوْلِهِ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرُ (البقرة: ٢٣٤) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال تک دودھ پلائیں ( یہ ہدایت) ان کے لئے (ہے) جو دودھ پلانے (کے کام) کو (اس کی مقررہ مدت تک) پورا کرنا چاہیں۔اور جس کا بچہ ہے اس کے ذمہ حسب دستوران ( دودھ پلانے والیوں) کا کھانا اور ان کی پوشاک ہے۔کسی شخص پر اس کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہیں ڈالی جاتی۔کسی والدہ کو اپنے بچہ کے ذریعہ سے دکھ نہ دیا جائے اور نہ باپ کو اس کے بچہ کی وجہ سے (دکھ دیا جائے ) اور وارث پر (بھی) ایسا ہی (کرنا لازم) ہے اور اگر وہ دونوں آپس کی رضا مندی اور باہمی مشورہ کے ساتھ دودھ چھڑانا چاہیں تو (اس میں) ان پر کوئی گناہ نہیں اور اگر تم اپنے بچوں کو (کسی دوسری عورت سے) دودھ پلوانا چاہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں جب تم وہ (معاوضہ) جو تم نے دینا کیا ہے مناسب طور پر ادا کر دو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور جان لو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے یقینا دیکھتا ہے۔وَقَالَ وَحَبْلُه وَفَضْلُهُ ثَلْثُونَ شَهرًا اور فرمایا: اس کو اٹھائے رکھنا اور اس کا دودھ چھڑانا