صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 303
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۶۹ - كتاب النفقات تشريح: حَبْسُ الرَّجُلِ قُوْتَ سَنَةٍ عَلَى أَهْلِي: آدمی کا اپنے بیوی بچوں کے لئے ایک سال کا خرچ رکھ لینا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے فتوحات کے نتیجے میں جب اموال دیئے تو آپ اپنے گھروں کے لیے ایک سال کا غلہ وغیرہ رکھ لیا کرتے تھے۔یہ طریق حوادث زمانہ سے آنے والی قحط سالی و دیگر ناموافق حالات میں افراد خانہ کی بقاء کے لیے انتہائی اہم قدم ہے۔اس مضمون کا ذکر سورہ یوسف میں بھی آتا ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے اس قوم کے ایک فرد کو خواب کے ذریعہ اس متوقع قحط سالی سے پہلے غلہ کی حفاظت کا پیغام دیا جسے حضرت یوسف علیہ السلام نے تعبیر کے ذریعہ اس قوم کے سامنے کھول کر بیان کیا۔یہ صورت دیہاتی تمدن میں بھی نظر آتی ہے کہ لوگ سال بھر کے لیے گندم اور چاول وغیرہ محفوظ کر لیتے ہیں۔یہ طریق ہمیں نظام جماعت میں بھی دکھائی دیتا ہے۔جماعت اپنے کارکنان کے لیے سال بھر کی گندم اور چاول وغیرہ کا انتظام کر دیتی ہے۔خلفائے سلسلہ نے بالعموم اور بطور خاص سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے بدلتے ہوئے حالات اور متوقع ایٹمی جنگ وغیرہ کے امکانات کو سامنے رکھتے ہوئے متعدد بار احباب جماعت کو کم از کم دو ماہ کا راشن گھروں میں محفوظ رکھنے کا ارشاد فرمایا ہے۔یہ سوچ بعض دیگر ترقی یافتہ اقوام میں بھی نظر آتی ہے۔حالات حاضرہ جاننے والے اس کا بخوبی علم رکھتے ہیں۔بَاب ٤ : نَفَقَةُ الْمَرْأَةِ إِذَا غَابَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَنَفَقَةُ الْوَلَدِ عورت کا خرچ کرنا جبکہ اس سے خاوند غائب ہو اور بچے کا خرچ :٥٣٥٩: حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلِ أَخْبَرَنَا ۵۳۵۹: ( محمد ) بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ عَبْدُ اللهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ ابْنِ عبد الله بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔یونس شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ أَنَّ عَائِشَةَ (بن یزید) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن شہاب اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ جَاءَتْ هِنْدٌ سے روایت کی کہ عروہ نے مجھے بتایا کہ حضرت رَضِيَ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں: ہند بنت عتبہ بِنْتُ عُتْبَةَ فَقَالَتْ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّ آئیں اور کہنے لگیں : یا رسول اللہ ! ابوسفیان ایک أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مِسَيْكٌ فَهَلْ عَلَيَّ بہت ہی بخیل شخص ہے۔کیا مجھ پر کوئی گناہ ہو گا حَرَجٌ أَنْ أُطْعِمَ مِنَ الَّذِي لَهُ عِيَالَنَا اگر میں اس کے مال میں سے اپنے بال بچوں کو قَالَ لَا إِلَّا بِالْمَعْرُوْفِ۔کھلاؤں؟ آپ نے فرمایا: نہیں مگر دستور کے موافق ہو۔أطرافه : ٢٢١١، ٢٤٦٠، ۳۸۲٥، ٥٣٦٤، ٥۳۷۰ ٦٦٤١، ۷۱٦١، ۷۱۸۰-