صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 238
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۳۸ ۶۸ - کتاب الطلاق يُطَلِقَ وَلَا يَقَعُ عَلَيْهِ الطَّلَاقُ حَتَّى ہوئے بتایا کہ جب چار مہینے گزر جائیں تو مرد کو يُطَلَّقَ وَيُذْكَرُ عَنْ عُثْمَانَ وَعَلِيّ ( پکڑ کر مجبور کیا جائے کہ وہ طلاق دے، اور جب وَأَبِي الدَّرْدَاءِ وَعَائِشَةَ وَاثْنَيْ عَشَرَ تک وہ طلاق نہ دے گا طلاق نہ ہوگی۔اور حضرت رَجُلًا مِّنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عثمان، حضرت علی، حضرت ابو در دا، حضرت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔عائشہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے بارہ اور اشخاص سے یہی بیان کیا جاتا ہے۔تشريح لِلَّذِينَ يُؤْتُونَ مِنْ نِسَآبِهِمْ : جو لوگ اپنی عورتوں کے متعلق قسم کھا کر ان سے علیحدگی اختیار کر لیتے ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ايلاء: الی یولی ایلاء: قسم کھانا۔یہ الا سے نکلا ہے جس کے معنے کسی کام میں کمی یا تاخیر کرنے کے ہیں اور ایلاء قرآن کریم کے محاورہ میں اُس قسم کو کہتے ہیں جو اس بات پر کھائی جائے کہ مرد اپنی بیوی سے کوئی تعلق نہ رکھے گا۔(مفردات) چونکہ اس قسم میں عورت کے حق کا اتلاف ہے اس لیے اسے ایلاء کہا گیا۔( تفسیر صغیر، سورة البقرة، حاشیه زیر آیت لِلَّذِينَ يُؤْتُونَ۔۔۔) باب ۲۲ : حُكْمُ الْمَفْقُوْدِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ لاپتہ شخص کی بیوی اور جائیداد کے متعلق حکم وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ إِذَا فُقِدَ فِي اور (سعید) بن مسیب نے کہا: اگر کوئی جنگ کے الصَّفِّ عِنْدَ الْقِتَالِ تَرَبَّصُ امْرَأَتُهُ وقت لاپتہ ہو جائے تو اس کی بیوی ایک سال تک سَنَةٌ۔وَاشْتَرَى ابْنُ مَسْعُودٍ جَارِيَةً انتظار کرے گی۔اور حضرت (عبد اللہ بن مسعودؓ فَالْتَمَسَ صَاحِبَهَا سَنَةٌ فَلَمْ يَجِدْهُ نے ایک لونڈی خریدی اور اس کے مالک کو (قیمت وَفُقِدَ فَأَحَدَ يُعْطِي الدِّرْهَم دینے کے لئے ) ایک سال تک ڈھونڈتے رہے مگر وَالدِّرْهَمَيْنِ وَقَالَ اللَّهُمَّ عَنْ فُلَانٍ اُس کو نہ پایا اور وہ مفقود الخبر ہو گیا تھا تو وہ ایک