صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 236
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۶۸ کتاب الطلاق کی بجائے اس کے تنزل کا راستہ کھولا جائے جسے اسلام کسی صورت میں برداشت نہیں کر سکتا۔اور غیر اہل کتاب کافر کی لڑکی لینے سے اس لئے روکا گیا ہے کہ چونکہ ایسی لڑکی اصول مذہب سے بالکل بے بہرہ ہوگی اس لئے وہ نہ صرف بچوں کی تربیت کے لحاظ سے خطرناک ہوگی بلکہ خاوند کے ساتھ بھی اگر وہ سچا مسلمان ہے اس کا دل نہیں مل سکے گا اور خانگی زندگی حقیقی خوشی سے محروم رہے گی۔اس کے مقابل پر اہل کتاب کی لڑکی لینے کی اجازت دینے میں یہ مصلحت ہے کہ اول تو بین الا قوام تعلقات کی توسیع کا راستہ کھلا رہے دوسرے ایسی لڑکی اصول مذہب سے واقف ہونے کی وجہ سے ایک حد تک بچوں کی تربیت میں محمد ہو سکتی ہے اور تیسرے یہ کہ اس کے لئے خاوند کے مشفقانہ اثر کے ماتحت اسلام کی طرف کھنچے آنے کی زیادہ توقع کی جاسکتی ہے۔واللہ اعلم مگر بایں ہمہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن وحدیث دونوں میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ اہل کتاب کی لڑکی کے ساتھ شادی کرنا بھی اسلام میں ایک استثنائی رنگ رکھتا ہے جس کی صرف خاص حالات کے ماتحت خاص مصالح کے پیش نظر اجازت دی گئی ہے اور عام حالات میں بہتر یہی سمجھا گیا ہے کہ مسلمان مرد کا نکاح حتی الوسع مسلمان عورت کے ساتھ ہو۔“ (سیرت خاتم النبیین صلی الم صفحہ ۷۵۸ تا ۷۶۱) باب ۲۱: قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى لِلَّذِينَ يُؤْتُونَ مِنْ نِّسَا بِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ ۚ إِلَى قَوْلِهِ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ) (البقرة: ۲۲۷، ۲۲۸) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: جو لوگ اپنی عورتوں کے متعلق قسم کھا کر اُن سے علیحدگی اختیار کر لیتے ہیں اُن کے لیے (صرف) چار مہینے تک انتظار کرنا (جائز) ہے پھر اگر اس عرصہ میں صلح کے خیال کی طرف لوٹ آئیں تو اللہ یقیناً بہت بخشنے والا ( اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔اور اگر وہ طلاق کا فیصلہ کر لیں تو اللہ یقیناً بہت سننے والا ( اور ) بہت جاننے والا ہے فَإِن فَاءُو (البقرة: ۲۲۷) رَجَعُوْا۔فَإِن فَاءُد کے معنی ہیں اگر وہ لوٹیں۔٥٢٨٩ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي :۵۲۸۹ اسماعیل بن ابی اُویس نے ہمیں بتایا۔