صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 230
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۳۰ ۶۸ - کتاب الطلاق يُقَاتِلُهُمْ وَلَا يُقَاتِلُوْنَهُ وَكَانَ إِذَا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑتے تھے۔ایک هَاجَرَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ الْحَرْبِ لَمْ وہ مشرک جنہوں نے عہد کئے تھے کہ آپ ان تُخْطَبْ حَتَّى تَحِيْضَ وَتَطْهُرَ فَإِذَا سے نہ لڑیں اور وہ آپ سے نہ لڑیں۔اور جب حربی مشرکوں سے کوئی عورت (خاوند چھوڑ کر) آ طَهُرَتْ حَلَّ لَهَا النِّكَاحُ فَإِنْ هَاجَرَ جاتی تو جب تک اُسے حیض نہ آتا اور وہ پاک نہ ہو زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تَنْكِحَ رُدَّتْ إِلَيْهِ وَإِنْ جاتی اس وقت تک اس کو پیغام نکاح نہ دیا جاتا۔هَاجَرَ عَبْدٌ مِنْهُمْ أَوْ أَمَةٌ فَهُمَا حُرَّانِ اور جب وہ پاک ہو جاتی تو اس سے نکاح جائز ہو وَلَهُمَا مَا لِلْمُهَاجِرِيْنَ۔جانتا۔اور اگر نکاح کرنے سے پہلے اُس کا خاوند بھی ہجرت کر کے آجاتا تو وہ اُس کو واپس دے دی جاتی۔اور اگر اُن میں سے کوئی غلام یا لونڈی ہجرت کر کے آتی تو وہ آزاد ہو جاتے۔اور اُن کے وہی حقوق ہوتے جو اور مہاجروں کے تھے۔ثُمَّ ذَكَرَ مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ مِثْلَ پھر عطاء نے اُن مشرکوں کا جن سے عہد و پیمان حَدِيْثِ مُجَاهِدٍ وَإِنْ هَاجَرَ عَبْدٌ أَوْ تھے، ذکر اسی طرح کیا جس طرح مجاہد کی حدیث أَمَةٌ لِلْمُشْرِكِيْنَ أَهْلِ الْعَهْدِ لَمْ يُرَدُّوا میں ہے۔یعنی اگر عہد و پیمان کرنے والے وَرُدَّتْ أَثْمَانُهُمْ۔مشرکوں کا غلام یا لونڈی ہجرت کر کے آتا تو وہ اُن کو واپس نہ کئے جاتے اور اُن کی قیمتیں اُن کو دے دی جاتیں۔٥٢٨٧: وَقَالَ عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ۵۲۸۷: اور عطاء نے حضرت ابن عباس سے نقل كَانَتْ قَرِيْبَةُ ابْنَةُ أَبِي أُمَيَّةَ عِنْدَ عُمَرَ کیا کہ قریبہ ، ابو امیہ کی بیٹی حضرت عمر بن خطاب بْنِ الخَطَّابِ فَطَلَّقَهَا فَتَزَوَّجَهَا مُعَاوِيَةُ کے پاس تھی تو انہوں نے اُس کو طلاق دے دی۔بْنُ أَبِي سُفْيَانَ وَكَانَتْ أُمُّ الْحَكَمِ پھر معاویہ بن ابی سفیان نے اُس سے نکاح کیا۔اور بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ تَحْتَ عِيَاضٍ بْنِ ام حکم ، ابوسفیان کی بیٹی عیاض بن غنم فہری کے