صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 229
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۶۸ - کتاب الطلاق باب :۱۸: قَوْلُ اللهِ تَعَالَى: وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَتِ حَتَّى يُؤْمِنَ، وَلَامَةُ مُؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُّشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ (البقرة: ٢٢٢) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: مشرک عورتوں سے جب تک وہ مؤمن نہ ہوں نکاح نہ کرنا اور مؤمن لونڈی مشرک عورت سے بہتر ہے گو وہ تمہیں پسند ہی آئے ٥٢٨٥ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ :۵۲۸۵ قتیبہ بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ عَنْ نَّافِعِ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا سُئِلَ ليث بن سعد) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع عَنْ نِكَاحِ النَّصْرَانِيَّةِ وَالْيَهُوْدِيَّةِ قَالَ سے روایت کی کہ حضرت ابن عمر سے جب نصرانی إِنَّ اللهَ حَرَّمَ الْمُشْرِكَاتِ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ یا یہودی عورت سے نکاح کرنے سے متعلق پوچھا وَلَا أَعْلَمُ مِنِ الْإِشْرَاكِ شَيْئًا أَكْبَرَ جاتا تو وہ کہتے: اللہ نے مومنوں کے لئے مشرک مِنْ أَنْ تَقُوْلَ الْمَرْأَةُ رَبُّهَا عِيْسَى عورتیں حرام کی ہیں اور میں اس سے بڑھ کر شرک کی بات کو نہیں جانتا کہ عورت یہ کہے کہ اُس کا وَهُوَ عَبْدٌ مِنْ عِبَادِ اللهِ۔رب عیسی ہے حالانکہ وہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ تھا۔بَاب ۱۹ : نِكَاحُ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ الْمُشْرِكَاتِ وَعِدَّتُهُنَّ مشرک عورتوں میں سے جو مسلمان ہوں اُن سے نکاح کرنا اور اُن کی عدت ٥٢٨٦: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى :۵۲۸۶: ابراہیم بن موسیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَقَالَ هشام (بن یوسف) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاس كَانَ ابن جریج سے سے روایت کی اور عطاء نے حضرت الْمُشْرِكُوْنَ عَلَى مَنْزِلَتَيْنِ مِنَ النَّبِيِّ ابن عباس سے روایت کرتے ہوئے کہا: مشرک صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُؤْمِنِيْنَ دو طرح کے تھے جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم كَانُوْا مُشْرِكِي أَهْلِ حَرْبٍ يُقَاتِلُهُمْ اور مومنوں کو واسطہ پڑا۔ایک حربی مشرک تھے وَيُقَاتِلُوْنَهُ وَمُشْرِكِي أَهْلِ عَهْدِ لَا جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کرتے تھے۔