صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 228
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۲۸ ۶۸ - کتاب الطلاق باب ۱۷ ٥٢٨٤ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ :۵۲۸۴: عبد اللہ بن رجاء نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيْمَ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حکم سے، معلم نے عَنِ الْأَسْوَدِ أَنَّ عَائِشَةَ أَرَادَتْ أَنْ ابراہیم (شخصی) سے، ابراہیم نے آسود سے روایت تَشْتَرِيَ بَرِيْرَةَ فَأَبَى مَوَالِيْهَا إِلَّا أَنْ کی۔انہوں نے کہا:) حضرت عائشہ نے بریرہ کو يَشْتَرِطُوا الْوَلَاءَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ خریدنا چاہا تو اس کے مالکوں نے اُس کو بیچنے سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اشْتَرِيْهَا انکار کر دیا مگر اس شرط پر کہ وہ حق وراثت کو وَأَعْتِقِيْهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ مشروط رکھیں گے۔حضرت عائشہ نے نبی صلی اللہ وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔آپ نے فرمایا: اس بِلَحْمٍ فَقِيْلَ إِنَّ هَذَا مَا تُصْدِقَ بِهِ کو خرید لو اور اُس کو آزاد کر دو کیونکہ حق وراثت عَلَى بَرِيْرَةَ فَقَالَ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا اُس کا ہوتا ہے جس نے آزاد کیا۔اور نبی صلی اللہ هَدِيَّةٌ۔حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَزَادَ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا۔آپ سے کہا گیا: یہ وہ ہے جو بریرہ کو بطور صدقہ کے دیا گیا۔آپ نے فرمایا: وہ اُس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے تحفہ۔آدم ( بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا اور انہوں نے اتنا زیادہ بیان کیا۔بریرہ کو اُس کے خاوند کے متعلق اختیار دیا گیا۔فَخُيِّرَتْ مِنْ زَوْجِهَا۔٢٥٦١، ٢٥٦٣، ٤٢٥٦٤ ۵۲۷۹ ،۵۰۹۷ ٤٥٤٣٠ ،٢١٦، ٢٥٣٦۸ ،۲۱۰۰ ،٢٥٦٠ أطرافه: ٤٥٦ ١٤٩٣، ۲۷۳۵ ،۲۷۲۹ ،۲۷۲۶ ،۲۷۱۷ ،۲۰۷۸ ،٢٥٦٥ -٦٧٥٤، ٦٧٥٨، ٦٧٦٠ ،6751 ،67۱۷