صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 227
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۶۸ کتاب الطلاق فُلَانٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوْفُ وَرَاءَهَا فلاں لوگوں کا غلام تھا۔مجھے ایسا یاد ہے کہ گویا سِكَكِ الْمَدِينَةِ۔میں اس کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ بریرہ کے پیچھے پیچھے أطرافه ۰۲۸۰، ۵۲۸۱، ۵۲۸۳ مدینہ کی گلیوں میں چکر لگا رہا تھا۔بَاب ١٦ : شَفَاعَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زَوْجٍ بَرِيْرَةَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بریرہ کے خاوند کے متعلق سفارش کرنا ٥٢٨٣ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا ۵۲۸۳: محمد بن سلام بیکندی) نے مجھ سے بیان عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ کیا کہ عبد الوہاب (بن عبد المجید ثقفی) نے ہمیں عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ زَوْجَ بَرِيْرَةَ خبردی کہ خالد (حذاء) نے ہمیں بتایا۔انہوں كَانَ عَبْدًا يُقَالُ لَهُ مُغِيْنٌ كَأَنِّي نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوْفُ خَلْفَهَا يَبْكِي سے روایت کی۔(انہوں نے کہا:) بریرہ کا خاوند وَدُمُوْعُهُ تَسِيْلُ عَلَى لِحْيَتِهِ فَقَالَ غلام تھا جسے مغیث کہتے تھے۔مجھے ایسا یاد ہے گویا میں اب بھی اُس کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ اُس النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبَّاسِ کے پیچھے پیچھے روتے ہوئے چکر لگا رہا ہے۔اس يَا عَبَّاسُ أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيْثٍ کے آنسو اُس کی داڑھی پر بہہ رہے ہیں۔نبی بَرِيْرَةَ وَمِنْ بَعْضِ بَرِيْرَةَ مُغِيْنًا فَقَالَ صلى اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس سے فرمایا: النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ عباس ! کیا تمہیں اس سے تعجب نہیں آتا کہ مغیث رَاجَعْتِهِ قَالَتْ يَا رَسُوْلَ اللهِ تَأْمُرُنِي کو بریرہ سے کس قدر محبت ہے اور بریرہ کو مغیث قَالَ إِنَّمَا أَنَا أَشْفَعُ قَالَتْ لَا حَاجَةَ سے کیسی نفرت ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اس کے پاس واپس چلی جاؤ؟ بریرہ نے کہا: یارسول اللہ ! کیا آپ مجھے حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: بلکہ سفارش ہی کرتا ہوں۔اُس نے کہا: مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں۔لي فيه۔أطرافه : ۵۲۸۰، ۰۲۸۱، ۵۲۸۲