صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 221
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۲۱ ۶۸ - كتاب الطلاق بِهَذَا۔ وَقَالَ تَرُدِّيْنَ حَدِيْقَتَهُ قَالَتْ روایت کی۔ (وہ کہتے تھے:) عبد اللہ بن ابی کی نَعَمْ فَرَدَّتْهَا وَأَمَرَهُ يُطَلِّقُهَا۔ بہن ( آپ کے پاس آئی۔) پھر یہی واقعہ بیان کیا۔ اور آپ نے فرمایا: کیا تم اس کا باغ واپس کر دو گی ؟ اس نے کہا: ہاں۔ چنانچہ اس نے اس کو وہ (باغ) واپس دے دیا اور آپؐ نے اس کو حکم دیا کہ اسے طلاق دے دو۔ وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ خَالِدٍ اور ابراہیم بن طہمان نے خالد (حذاء) سے، خالد عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ نے عکرمہ سے، عکرمہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَلَّقْهَا ۔ أطرافه: ۵۲۷۳، ۵۲۷۵، ٥٢٧٦، ٥٢٧٧۔ سے روایت کی اور اس میں یوں ہے: آپ نے فرمایا : ) اس کو طلاق دے دو۔ ٥٢٧٥: وَعَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيْمَةَ ۵۲۷۵: اور (ابن طہمان نے اس حدیث کو) عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ ايوب بن ابی تمیمہ (سختیانی) سے روایت کیا۔ جَاءَتِ امْرَأَةُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ إِلَى انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابن عباس سے، انہوں نے کہا کہ ثابت بن قیس فَقَالَتْ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنِّي لَا أَعْتِبُ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی لَا أُطِيقُهُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ اور کہنے لگی: یا رسول اللہ ! میں ثابت پر دین یا عَلَى ثَابِتٍ فِي دِيْنٍ وَلَا خُلُقٍ وَلَكِنِّي اخلاق کی وجہ سے ناراضگی کا اظہار نہیں کرتی مگر میں اس کے ساتھ گزارہ نہیں کر سکتی۔ رسول اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَرْدَيْنَ عَلَيْهِ حَدِيْقَتَهُ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس کو اس کا باغ قَالَتْ نَعَمْ۔ أطرافه : ٥٢٧٣، ٥٢٧٤، ٥٢٧٦، ٥٢٧٧۔ واپس کر دو گی ؟ اُس نے کہا: ہاں۔ ٥٢٧٦ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۵۲۷۶: محمد بن عبد اللہ بن مبارک مخرمی نے بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ حَدَّثَنَا قُرَادٌ ہمیں بتایا کہ قراد ابو نوح نے ہم سے بیان کیا۔