صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 217
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۲۱۷ ۶۸ - کتاب الطلاق تشریح : الطلاق في الإِخْلَاقِ وَالكُر۔۔۔تالوں میں بند کر کے اور جبر طلاق دلوانا، اور شراب ست شخص اور مجنون کا طلاق دینا، ان دونوں کے متعلق حکم۔باب کے الفاظ میں مختلف فقہاء اور محدثین کے اقوال میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ طلاق کن کن صورتوں میں ہو گی اور کن صورتوں میں واقع نہیں ہو گی۔سو جاننا چاہیے کہ طلاق ایک ایسا عمل ہے جو دو افراد ہی نہیں دو خاندانوں کے قائم تعلق کو توڑ دیتا ہے اور اس کے نتیجہ میں کئی قسم کے خانگی اور معاشرتی مسائل جنم لیتے ہیں اس لیے طلاق دینے میں پوری احتیاط اور حزم سے کام لینا ضروری ہے اس لیے شریعت نے مذکورہ بالا تمام حالتوں میں دی گئی طلاق کو رڈ کیا ہے کیونکہ یہ جائز اور حلال ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے نزدیک انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے، اس لیے اس میں تمام قانونی، اخلاقی، روحانی، عملی پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے نتائج کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے تاکہ بعد میں ایسی صورت نہ بن جائے جو نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن کی مصداق ہو۔۱۵ جون ۱۹۰۳ کے ملفوظات میں یہ بیان ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو جلد بازی میں دی گئی طلاق سخت ناپسند تھی۔جیسا کہ بیان کیا گیا ہے کہ بار ہا دیکھا گیا ہے اور تجربہ کیا گیا ہے کہ جب کوئی شخص خفیف عذرات پر عورت سے قطع تعلق کرنا چاہتا ہے تو یہ امر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ملال کا موجب ہو تا ہے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص سفر میں تھا اس نے اپنی بیوی کو لکھا کہ اگر وہ بدیدن خط اس کی طرف روانہ نہ ہو گی تو اُسے طلاق دے دی جاوے گی۔سنا گیا ہے کہ اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ "جو شخص اس قدر جلدی قطع تعلق کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو ہم کیسے امید کر سکتے ہیں کہ ہمارے ساتھ اس کا پکا تعلق ہے۔ایسا ہی ایک واقعہ اب چند دنوں سے پیش تھا کہ ایک صاحب نے اول بڑی چاہ سے ایک شریف لڑکی کے ساتھ نکاح ثانی کیا مگر بعد ازاں بہت خفیف عذر پر دس ماہ کے اندر ہی انہوں نے چاہا کہ اس سے قطع تعلق کر لیا جاوے۔اس پر حضرت اقدس علیہ السلام کو بہت سخت ملال ہوا اور فرمایا کہ 66 ” مجھے اس قدر غصہ ہے کہ میں اسے برداشت نہیں کر سکتا اور ہماری جماعت میں ہو کر پھر یہ ظالمانہ طریق اختیار کرنا سخت عیب کی بات ہے۔“ چنانچہ دوسرے دن پھر حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ