صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 184
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۸۴ ۶۸ - کتاب الطلاق بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ٦٨ - كِتَاب الطلاق بَاب ۱ : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى يَايُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَاحْصُوا الْعِدَّةَ (الطلاق: ٢) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اے نبی جب تم عورتوں کو طلاق دو تو اُن کو اُن کی عدت پر طلاق دو اور عدت کو شمار کرتے رہو أَحْصَيْنَاهُ حَفِظْنَاهُ وَعَدَدْنَاهُ وَطَلَاقُ أَحْصَيْنَائی کے معنی ہیں ہم نے اسے یاد رکھا اور السُّنَّةِ أَنْ يُطَلَّقَهَا طَاهِرًا مِنْ غَيْرِ اس کو شمار کیا اور مسنون طلاق یہ ہے کہ آدمی جِمَاعٍ وَيُشْهِدَ شَاهِدَيْنِ۔عورت کو طہر کی حالت میں بغیر جماع کرنے کے طلاق دے اور دو گواہ ٹھہرائے۔٥٢٥١ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۵۲۵۱: اسماعیل بن عبد اللہ (اویسی) نے ہم سے قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ بیان کرتے ہوئے کہا: مالک نے مجھے بتایا۔انہوں عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ نے نافع سے، نافع نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اُنہوں نے اپنی طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بیوی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں طلاق دی اور وہ حائضہ تھی۔حضرت عمر بن خطاب فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَسُوْلَ اللهِ نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ وچھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے کہو کہ اس کو واپس لائے اور پھر اُس وقت مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تک اپنے پاس رکھے کہ جب تک وہ پاک نہ ہو تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيْضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ جائے اور پھر اس کے بعد حائضہ ہو اور پھر پاک