صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 180
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۱۸۰ ۶۷ - كتاب النكاح بَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى الله سهل بن سعد ساعدی سے پوچھا اور وہ نبی صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ فَقَالَ مَا بَقِيَ علیہ وسلم کے اُن آخری صحابہ میں سے تھے جو مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي كَانَتْ مدینہ میں باقی تھے۔انہوں نے کہا: لوگوں میں فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَامُ تَغْسِلُ الدَّمَ سے اب کوئی باقی نہیں رہا جو اس کے متعلق مجھ عَنْ وَجْهِهِ وَعَلِيٌّ يَأْتِي بِالْمَاءِ عَلَى سے بڑھ کر جانتا ہو۔حضرت فاطمہ علیہا السلام آپ کے چہرے سے خون دھوتی تھیں اور حضرت علی اپنی ڈھال میں پانی لاتے جاتے تھے۔ایک بور یا لی گئی اور اُس کو جلا کر آپ کے زخم کو اُس تُرْسِهِ فَأُخِذَ حَصِيرٌ فَحُرِّقَ فَحُشِيَ بِهِ جُرْحُهُ۔سے بھر دیا گیا۔أطرافه: ۲٤٣، ۲۹۰۳، ۲۹۱۱، ۳۳۷، ٤٧٥، ٥٧٢٢۔بَاب ١٢٤ : وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمُ (النور: ٥٩) اور وہ جو تم میں سے ابھی بالغ نہیں ہوئے ٥٢٤٩ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ :۵۲۴۹ احمد بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عبد الله بن مبارک) نے ہمیں خبر دی کہ سفیان عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ سَمِعْتُ ابْنَ (ثوری) نے ہمیں بتایا ، سفیان نے عبد الرحمن بن عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا سَأَلَهُ رَجُلٌ عابس سے روایت کی۔(اُنہوں نے کہا: ) میں نے شَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، اُن سے ایک شخص نے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَ أَضْحَى أَوْ فِطْرًا؟ علیہ وسلم کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحیٰ میں قَالَ نَعَمْ وَلَوْ مَكَانِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ شریک ہوئے؟ انہوں نے کہا: ہاں اور اگر میرا مِنْ صِغَرِهِ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ آپ سے تعلق نہ ہو تا تو میں اس میں شریک نہ ہوتا اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى ثُمَّ یعنی کم سنی کی وجہ سے (شریک نہ ہوتا۔) حضرت خَطَبَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلَا إِقَامَةً ابن عباس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَرَهُنَّ اور آپ نے نماز پڑھائی۔پھر لوگوں سے مخاطب