صحیح بخاری (جلد سیز دھم) — Page 93
صحیح البخاری جلد ۱۳ حاله ۶۷ - كتاب النكاح التوسل حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ سفیان ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام عَنْ عُرْوَةَ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بن عروہ سے، ہشام نے عروہ سے روایت کی کہ سے وَسَلَّمَ عَائِشَةَ وَهِيَ بِنْتُ سِيِّ سِنِينَ نبی صلی الم نے حضرت عائشہ سے نکاح کیا جبکہ وہ وَبَنَى بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ وَمَكَتَتْ چھ برس کی تھیں اور اُن کو گھر میں لائے جبکہ وہ نو برس کی تھیں اور وہ آپ کے پاس نو برس رہیں۔ عِنْدَهُ تِسْعًا ۔ أطرافه: ٣٨٩٤، ۳۸۹٦ ، ۵۱۳۳، 5134، 5156، 5160۔ تشريح : مَنْ بَنَى بِامْرَأَةٍ وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سندین: جو کسی عورت سے شادی کرے جبکہ وہ نو برس کی ہو۔ پادری فتح مسیح سکنہ فتح گڑھ ضلع گورداسپور نے گندہ دہنی سے کام لیتے ہوئے ہمارے سید و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت سے اعتراضات کئے۔ جن میں سے ایک اعتراض اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شادی کے وقت عمر کے متعلق بھی کیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: پادری صاحب ہمیں آپ کی حالت پر رونا آتا ہے کہ آپ زبان عربی سے تو بے نصیب تھے ہی مگر وہ علوم جو دینیات سے کچھ تعلق رکھتے ہیں، جیسے طبعی اور طبابت، ان سے بھی آپ بے بہرہ ہی ثابت ہوئے۔ آپ نے جو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کر کے نو برس کی رسم شادی کا ذکر لکھا ہے۔ اول تو نو برس کا ذکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ثابت نہیں اور نہ اس میں کوئی وحی ہوئی اور نہ اخبار متواترہ سے ثابت ہوا کہ ضرور نو برس ہی تھے۔ صرف ایک راوی سے منقول ہے۔ عرب کے لوگ تقویم پترے نہیں رکھا کرتے تھے کیونکہ اقی تھے اور دو تین برس کی کمی بیشی ان کی حالت پر نظر کر کے ایک عام بات ہے۔ کہ ہمارے ملک میں بھی اکثر نا خواندہ لوگ دو چار برس کے فرق کو اچھی طرح محفوظ نہیں رکھ سکتے۔ پھر اگر فرض کے طور پر تسلیم بھی کر لیں کہ فی الواقع دن دن کا حساب کر کے نو برس ہی تھے۔ لیکن پھر بھی کوئی عقلمند اعتراض نہیں کرے گا مگر احمق کا کوئی علاج نہیں حال کے محقق ڈاکٹروں کا اس پر اتفاق ہو چکا ہے کہ نو برس تک بھی لڑکیاں بالغ ہو سکتی ہیں۔ بلکہ سات برس تک بھی اولاد ہو سکتی ہے اور بڑے بڑے مشاہدات سے ڈاکٹروں نے اس کو ثابت کیا ہے اور خود صد ہا لوگوں کی جیسے