صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 591
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۹۱ -۶- کتاب فضائل القرآن اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِلنَّبِيِّ أَنْ يَتَغَنَّى ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بِالْقُرْآنِ۔قَالَ سُفْيَانُ تَفْسِيْرُهُ کی۔آپ نے فرمایا: اللہ نے کسی بات کو اتنی توجہ يَسْتَغْنِي بِهِ۔سے نہیں سنا جتنی توجہ سے اس نے نبی (صلی ) کو قرآن خوش الحانی سے پڑھتے ہوئے سنا۔سفیان نے کہا: اس سے مراد یہ ہے کہ وہ قرآن کے ذریعہ سے (تمام دوسری کتابوں سے) بے پرواہ ہو جائے۔أطرافه: ٥٠٢٣، -٠٥٠ ٠٧٤٨٢ ٧٥٤٤ ح۔مَن لَّمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ : جس نے قرآن کو خوش الحانی سے نہ پڑھا عنوان باب کے الفاظ ایک حدیث کے ہیں جو امام بخاری کتاب التوحید میں لائے ہیں۔فرمایا: لَيْسَ مِنَّا مَن لَّمْ يَتَغَنَّ بِالقُرآنِ ( روایت نمبر ۷۵۲۷) یعنی وہ ہم میں سے نہیں ہے جس نے قرآن کو خوش الحانی سے نہ پڑھا۔اسلام چونکہ دین فطرت ہے اور فطرت انسانی میں اللہ تعالیٰ نے خوبصورت اور سریلی آوازوں کے سننے کی حس اور لذت پیدا کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر حس کی تسکین کے لیے اس کے مناسب حال سامان پیدا کیے ہیں۔خدا تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت کا اگر صحیح استعمال کیا جائے تو اس نعمت کے شکر کا صحیح معنوں میں حق ادا ہو گا۔اور یہ بات کائنات میں اللہ تعالیٰ کے لا محدود نظام میں جابجا نظر آتی ہے۔کہیں پرندوں کی چہچہاہٹ ، کہیں بادِ نسیم کے ساتھ پتوں کے ملنے کی آوازیں، کہیں آبشاروں سے گرتے ہوئے پانی کی آوازیں، غرض کائنات میں پھیلی ہوئی تمام آواز میں اپنے اندر ایک خاص صوتی حسن رکھتی ہیں اور انسان تو انسان جانور بلکہ حشرات الارض بھی ان آوازوں سے متاثر ہوتے ہیں۔یہ آوازیں کبھی خوش کرتی ہیں اور کبھی اپنی گرج کے ساتھ خوف بھی پیدا کرتی ہیں۔اور یوں کا ئنات کا حسن ہر سو ایک نئی شان میں ظاہر ہوتا ہے۔اس کی کنہ اور حقیقت کو انسان نہیں پا سکتا۔اللہ تعالیٰ جو خالق و مالک ہے وہی بہتر جانتا ہے کہ ان لا تعداد آوازوں کے اندر کس قدر مقاصد ، اغراض اور حکمتیں پنہاں ہیں۔فطرت انسانی کے مطابق ہر اچھی آواز جو انسان کے اندر خدا تعالیٰ کی محبت اور عظمت پیدا کرے اسے سننا محبت الہی میں ترقی کا باعث ہے۔اور خدا تعالیٰ کے کلام کو خوش الحانی سے پڑھی جانے والی آواز یقینا انسان کے اندر اس کی محبت، عظمت اور تعلق بڑھانے کا باعث ہو گی۔بلاشبہ کلام الہی کو محبت اور توجہ سے سنا خدا کے رحم کو جذب کرنے کا ذریعہ ہے جیسا که فرمایا: وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَ انْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (الاعراف: ۲۰۵) اور (اے لوگو!) جب قرآن پڑھا جائے تو اس کو سنا کرو اور چپ رہا کرو۔تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔نیز اسلام نے دن میں پانچ دفعہ خدا کی