صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 590
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۹۰ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن حاکم وغیرہ کی یہ روایت مختلف سندوں سے نقل کی گئی ہے اور ہر سند میں کوئی نہ کوئی شیعہ راوی ہے لہذا قابل التفات نہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۷۵،۱۷۴) باب ۱۹: مَنْ لَّمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ جس نے قرآن کو خوش الحانی سے نہ پڑھا وَقَوْلُهُ تَعَالَى أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا اَنْزَلْنَا اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: کیا انہیں کافی نہیں کہ ہم عَلَيْكَ الْكِتَبَ يُتْلَى عَلَيْهِم۔نے تجھ پر یہ کتاب اُتاری ہے جو ان کے سامنے (العنکبوت: ٥٢) پڑھی جاتی ہے۔٥٠٢٣: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۵۰۲۳: يحيی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا۔انہوں قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ نے کہا: لیث نے مجھے بتایا۔انہوں نے عقیل سے، ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔انہوں نے بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبد الرحمن نے حضرت اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُوْلُ قَالَ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْذَنِ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِلنَّبِي أَنْ نے فرمایا: اللہ نے کسی چیز کو بھی اتنی توجہ سے رَضِيَ يتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ۔وَقَالَ صَاحِبٌ لَهُ يُرِيدُ يَجْهَرُ بِهِ۔أطرافه: ٠٧٤٨٢٠٥٠٢٤ ٧٥٤٤- نہیں سنا، جتنا کہ نبی (صل الم) کو توجہ سے سنا جبکہ وہ قرآن خوش الحانی سے پڑھ رہے ہوں۔اور ابو سلمہ کے ایک دوست نے کہا: اس سے مراد یہ ہے کہ بلند آواز سے پڑھتے ہوں۔٥٠٢٤: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۵۰۲۴ علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سفيان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ زہری سے، زہری نے ابوسلمہ ( بن عبد الرحمن) صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَذِنَ سے ، ابو سلمہ نے حضرت ابوہریرہ سے، حضرت