صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 589
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۸۹ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن تشریح : الْوَصَاةُ بِكِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: اللہ عزوجل کی کتاب پر عمل کرنے کی وصیت کرنا۔اہل سنت و اہل تشیع کے درمیان صدیوں سے یہ مسئلہ موضوع بحث و نزاع رہا ہے کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد کسی کے حق میں خلافت کی وصیت کی تھی یا نہیں۔شیعہ حضرات کہتے ہیں کہ آنحضرت قام المرسل صلی ہم نے اپنے وصال سے پہلے جو یہ فرمایا: هَلَمُوا أَكتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لا تَضِلُّوا بَعْدَهُ (بخاری، کتاب المغازی، باب مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ، روایت نمبر (۴۴۳۲) آؤ میں تمہیں ایسی وصیت لکھ دوں کہ اس کے بعد تم نہیں بھٹکو گے۔یہ وصیت حضرت علیؓ کے حق خلافت سے متعلق تھی جو حضرت عمرؓ نے یہ کہہ کر کہ کتاب اللہ ہمارے لیے کافی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھنے نہیں دی۔اس موقع پر بعض صحابہ کی رائے تھی کہ تحریر لکھوا لی جائے جبکہ بعض صحابہ کا خیال تھا جیسا کہ حضرت عمرؓ نے کہا کہ حسبنا کتاب اللہ۔اس پر کچھ تکرار ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس شور نہ کرو۔باہر چلے جاؤ۔اس روایت میں یہ ذکر ہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنے محبوب آقا کی تکلیف کا احساس کر کے ایسا کہا۔اس احساس کے مقابل محض قیاس سے یہ کہنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی کی خلافت کے بارے میں وصیت کرنا چاہتے تھے ، محض قیاس ہے جس کی کوئی دلیل نہیں۔جبکہ حضرت عمر کی بات واقعات کے مطابق اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی منشاء مبارک کے عین مطابق تھی۔قیاس یقین کا درجہ نہیں رکھتا۔اور اس قیاس پر اصرار دوسری غلطی ہے۔حضرت عمرؓ نے جو کہا وہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی منشاء مبارک تھی۔واقعات اس کی تصدیق کرتے ہیں کیونکہ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بقیہ ایام حیات میں اس بات کا اعادہ نہیں فرمایا اور نہ ہی حضرت علی و دیگر صحابہ میں سے کسی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دوبارہ آپ کی یہ وصیت لکھوانے کی درخواست کی۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام صحابہ حضرت عمرؓ کے اس جملے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاموشی سے اس نتیجے پر پہنچے تھے جو حضرت عمر نے کہا تھا۔ایک بحث یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت آپ کے پاس کون تھے۔امام بخاری نے كتاب الوصايا (بَابُ الوَصَايَا وَقَوْلِ النّبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَصِيَّةُ الرَّجُلِ مَكْتُوبَةٌ عِندَهُ، روايت نمبر (۲۷۴) میں حضرت عائشہؓ کی روایت نقل کی ہے کہ ذَكَرُوا عِنْدَ عَائِشَةَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ وَصِيًّا فقَالَتْ مَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ وَقَدْ كُنْتُ مُسْنِدَتَهُ إِلَى صَدْدِى أَوْ قَالَتْ تَجْرِى فَدَعَا بِالكَسْتِ فَلَقَدْ الْخَنَتَ فِي تَجْرِي فَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ فَمَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ (بعض لوگوں) نے حضرت عائشہ کے پاس یہ ذکر کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی تھے۔حضرت عائشہ نے فرمایا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کب وصی بنایا تھا، حالانکہ میں تو آپ کو وفات کے وقت اپنے سینے سے سہارا دیئے ہوئے تھی۔یا کہا: اپنی گود میں لئے ہوئے تھی۔آپ نے طشت منگوایا اور میری گود ہی میں آپ جھک گئے اور مجھے پتہ ہی نہ لگا کہ آپ فوت ہو گئے ہیں۔تو آپ نے حضرت علی کے حق میں کب وصیت کی تھی؟ امام بخاری نے اس روایت سے اس روایت کارڈ کیا ہے جو حاکم اور ابن سعد وغیرہ نے نقل کی ہے کہ آپ حضرت علی کی گود میں فوت ہوئے۔امام ابن حجر کی تحقیق میں