صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 580
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۸۰ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن حضرت مسیح موعود علیہ السلام مزید فرماتے ہیں: آدم نخاش کے ساتھ آزمایا گیا جس کو عربی میں خنّاس کہتے ہیں جس کا دوسرا نام دجال ہے ایسا ہی اس آخری آدم کے مقابل پر نخاش پیدا کیا گیا تا وہ زن مزاج لوگوں کو حیات ابدی کی طمع دے جیسا کہ حوا کو اس سانپ نے دی تھی جس کا نام توریت میں مخاش اور قرآن میں خناس ہے لیکن اب کی دفعہ مقدر کیا گیا کہ یہ آدم اُس نخاش پر غالب آئے گا۔غرض اب چھ ہزار برس کے اخیر پر آدم اور شخاش کا پھر مقابلہ آپڑا ہے اور اب وہ پر انا سانپ کاٹنے پر قدرت نہیں پائے گا جیسا کہ اوّل اُس نے حوا کو کاٹا اور پھر آدم نے اس زہر سے حصہ لیا بلکہ وہ وقت آتا ہے کہ اس سانپ سے بچے کھیلیں گے اور وہ ضرررسانی پر قادر نہیں ہو گا۔قرآن شریف میں یہ لطیف اشارہ ہے کہ اس نے سورۃ فاتحہ کو الضالین پر ختم کیا اور قرآن کو خناس پر۔تا دانشمند انسان سمجھ سکے کہ حقیقت اور روحانیت میں یہ دونوں نام ایک ہی ہیں۔“ (تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلد۱۷، حاشیه صفحه ۲۷۵) بَاب ١٥ : نُزُولُ السَّكِيْنَةِ وَالْمَلَائِكَةِ عِنْدَ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ قرآن کے پڑھنے کے وقت سکینت اور ملائکہ کا اترنا ٥٠١٨ : وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يَزِيْدُ :۵۰۱۸ اور لیث بن سعد) نے کہا: مجھے یزید بن بْنُ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيْمَ عَنْ باد نے بتایا۔انہوں نے محمد بن ابراہیم سے، أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ قَالَ بَيْنَمَا هُوَ يَقْرَأُ انہوں نے حضرت اُسید بن حضیر سے روایت مِنَ اللَّيْلِ سُوْرَةَ الْبَقَرَةِ وَفَرَسُهُ کی۔انہوں نے کہا: ایک بار رات کو وہ سورۃ البقرۃ مَرْبُوْطٌ عِنْدَهُ إِذْ جَالَتِ الْفَرَسُ پڑھ رہے تھے اور ان کا گھوڑا ان کے پاس بندھا ہوا تھا۔اتنے میں (ان کے) گھوڑے نے چکر لگانا فَسَكَتَ فَسَكَنَتْ فَقَرَأَ فَجَالَتِ شروع کیا۔وہ ( یہ دیکھ کر) خاموش ہو گئے اور الْفَرَسُ فَسَكَتَ فَسَكَنَتِ الْفَرَسُ ثُمَّ وہ گھوڑا بھی ٹھہر گیا۔پھر انہوں نے پڑھنا قَرَأَ فَجَالَتِ الْفَرَسُ فَانْصَرَفَ وَكَانَ شروع کیا تو گھوڑا بھی چکر لگانے لگا۔وہ چپ ہو ابْنُهُ يَحْيَى قَرِيْبًا مِنْهَا فَأَشْفَقَ أَنْ گئے اور گھوڑا بھی ٹھہر گیا۔پھر انہوں نے پڑھنا تُصِيْبَهُ فَلَمَّا اجْتَرَّهُ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى شروع کیا اور گھوڑا بھی چکر لگانے لگا۔(وہ