صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 579
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۷۹ - کتاب فضائل القرآن آپ مزید فرماتے ہیں: یہ تمام اشارات عیسائی پادریوں کی طرف ہیں کہ ایک زمانہ آنے والا ہے جو وہ دنیا میں شر پھیلائیں گے اور دنیا کو تاریکی سے بھر دیں گے اور جادو کی طرح ان کا دھوکا ہو گا اور وہ سخت حاسد ہوں گے اور اسلام کو حسد کی راہ سے بنظر تحقیر دیکھیں گے اور لفظ رب الفلق اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس تاریکی کے بعد پھر صبح کا زمانہ بھی آئے گا جو مسیح موعود کا زمانہ ہے۔اس مقابلہ سے جو سورۃ اخلاص سے سورۃ فلق کا کیا گیا ظاہر ہے کہ ان دونوں سورتوں میں ایک ہی فرقہ کا ذکر ہے صرف یہ فرق ہے کہ سورۃ اخلاص میں اس فرقہ کی اعتقادی حالت کا بیان ہے اور سورۃ الفلق میں اس فرقہ کی عملی حالت کا ذکر ہے اور اس فرقہ کا نام سورۃ الفلق میں شَرِ مَا خَلَقَ رکھا گیا ہے یعنی شر البریہ اور احادیث پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال معہود کا نام بھی شر البر یہ ہے کیونکہ آدم کے وقت سے اخیر تک شر میں اُس کے برابر کوئی نہیں۔پھر ان دونوں سورتوں کے بعد سورۃ الناس ہے۔اور وہ یہ ہے۔یعنی وہ جو انسانوں کا پروردگار اور انسانوں کا بادشاہ اور انسانوں کا خدا ہے، میں وسوسہ انداز خناس کے وسوسوں سے اس کی پناہ مانگتا ہوں۔وہ خناس جو انسانوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے جو جنوں اور آدمیوں میں سے ہے۔اس آیت میں یہ اشارہ ہے کہ اس خناس کی وسوسہ اندازی کا وہ زمانہ ہو گا کہ جب اسلام کے لئے نہ کوئی مربی اور عالم ربانی زمین پر موجود ہو گا اور نہ اسلام میں کوئی حامی دین بادشاہ ہو گا تب مسلمانوں کے لئے ہر ایک موقع پر خدا ہی پناہ ہو گا وہی خداو ہی مربی وہی بادشاہ و بس۔اب واضح ہو کہ خناس شیطان کے ناموں میں سے ایک نام ہے یعنی جب شیطان سانپ کی سیرت پر قدم مارتا ہے اور کھلے کھلے اگر اہ اور جبر سے کام نہیں لیتا اور سر اسر مکر اور فریب اور وسوسہ اندازی سے کام لیتا ہے اور اپنی نیش زنی کے لئے نہایت پوشیدہ راہ اختیار کرتا ہے تب اُس کو خنّاس کہتے ہیں عبرانی میں اس کا نام نحاش ہے۔چنانچہ توریت کے ابتداء میں آ ہے کہ نحاش نے حوا کو بہکایا اور حوا نے اس کے بہکانے سے وہ پھل کھایا جس کا کھانا منع کیا گیا تھا۔تب آدم نے بھی کھایا۔سو اس سورۃ الناس سے واضح ہو تا ہے کہ یہی نحاش آخری زمانہ میں پھر ظاہر ہو گا اسی نحاش کا دوسرا نام دجال ہے۔“ لکھا (تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلد ۷ ۱ حاشیہ صفحہ ۲۷۲ تا ۲۷۴)