صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 573 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 573

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۷۳ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن عَبْدِ اللهِ يَقُوْلُ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ عَنْ کے منشی تھے۔انہوں نے کہا کہ ابو عبد اللہ (امام إِبْرَاهِيمَ مُرْسَلٌ وَعَنِ الصَّحَاكِ بخاری) نے کہا: ابراہیم (شخصی) سے یہ روایت الْمَشْرِقِيَ مُسْتَدٌ۔مرسل ہے اور ضحاک مشرقی سے متصل۔ح : فَضْلُ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ: قُلْ هُوَ اللهُ احد کی فضیلت۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” اس سورۃ کے متعدد نام مختلف تفاسیر میں مروی ہیں۔اور یہ ناموں کی کثرت اس کے کثرت مضمون کی طرف اشارہ کرتی ہے۔چنانچہ وہ نام یہ ہیں: ا - سورة التفرید: کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے اور فرد ہونے اور تثلیث وغیرہ کی تردید اس سورۃ میں کی گئی ہے۔۲۔سورۃ التجرید: کیونکہ اللہ تعالیٰ کے لاثانی ہونے کا اس میں بیان ہے۔- سورۃ التوحید: کیونکہ توحید کا ایسا واضح بیان کسی دوسری کتاب میں نہیں ہے۔۴ سورة الاخلاص: کیونکہ یہ انسان کے اندر اخلاص پیدا کرتی ہے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ اس کا تعلق جوڑتی ہے۔۵۔سورۃ النجاة کیونکہ اس بات پر پورا یقین رکھنے سے کہ خدا ایک ہے انسان نجات پاتا ہے۔۔سورۃ الولایۃ: کیونکہ یہ سورۃ پورے علم اور عمل اور معرفت کا ذریعہ ہو کر انسان کو درجہ ولایت تک پہنچا دیتی ہے۔۷۔سورة المعرفة: کیونکہ اللہ تعالیٰ کی معرفت اسی کلام کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔چنانچہ جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نماز پڑھتے ہوئے سورۃ الاخلاص کی تلاوت کی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورۃ کو سن کر فرمایا کہ اس شخص نے اپنے رب کی معرفت حاصل کر لی۔- سورة الجمال: حدیث شریف میں آیا ہے کہ ان اللهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَال کہ اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ اللہ کا جمال کیا ہے۔آپ نے فرمایا اس کا اَحَدٌ، صَمَدُ، لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ ہونا۔له (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب تحريم الكبر وبيانه)