صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 567 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 567

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۶۷ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن زیر باب حدیث میں ہے کہ ایک شخص سورہ کہف پڑھ رہا تھا۔اس کا نام یہاں ذکر نہیں کیا گیا۔جبکہ باب ۵ اروایت نمبر ۵۰۱۸ میں ذکر ہے کہ تلاوت کرنے والے حضرت اُسید بن حضیر ہیں۔نیز یہ ذکر ہے کہ وہ سورۃ البقرۃ پڑھ رہے تھے۔دونوں روایات کے الفاظ اور مضمون ایک ہے جس سے یہ غلط فہمی ہو سکتی ہے کہ یہ ایک ہی واقعہ ہے۔در حقیقت ان روایات میں دو الگ الگ واقعات کا ذکر ہے۔بَابِ۱۲: فَضْلُ سُوْرَةِ الْفَتْحِ سورہ فتح کی فضیلت ٥٠١٢ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ قَالَ :۵۰۱۲ اسماعیل بن ابی اولیس) نے ہم سے حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ بیان کیا۔انہوں نے کہا کہ مالک نے مجھے بتایا۔أَبِيْهِ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ انہوں نے زید بن اسلم سے، زید نے اپنے باپ وَسَلَّمَ كَانَ يَسِيْرُ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسِيْرُ مَعَهُ لَيْلًا کو اپنے کسی سفر میں جارہے تھے اور حضرت عمر فَسَأَلَهُ عُمَرُ عَنْ شَيْءٍ فَلَمْ يُجِبْهُ بن خطاب بھی آپ کے ساتھ چلے جارہے تھے۔رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ حضرت عمر نے آپ سے کسی بات کے متعلق پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ ثُمَّ سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ جواب نہیں دیا۔پھر انہوں نے آپ سے پوچھا فَقَالَ عُمَرُ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ نَزَرْتَ مَگر آپ نے جواب نہیں دیا۔پھر انہوں نے آپ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے پوچھا تو بھی آپ نے ان کو جواب نہیں دیا۔ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلَّ ذَلِكَ لَا يُجِيْبُكَ حضرت عمرؓ نے (اپنے تئیں) کہا: تیری ماں تجھے قَالَ عُمَرُ فَحَرَّكْتُ بَعِيرِي حَتَّى کھوئے تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین كُنْتُ أَمَامَ النَّاسِ وَخَشِيْتُ أَنْ يُنْزِلَ بار پیچھے پڑ کر پوچھا۔ایک دفعہ بھی آپ نے تجھے فِيَّ قُرْآنٌ فَمَا نَشِبْتُ أَنْ سَمِعْتُ جواب نہیں دیا۔حضرت عمر کہتے تھے : میں نے صَارِحًا يَصْرُحُ قَالَ فَقُلْتُ لَقَدْ اپنے اونٹ کو ایڑ لگائی اور لوگوں کے آگے ہو گیا خَشِيْتُ أَنْ يَكُونَ نَزَلَ فِي قُرْآنٌ اور میں ڈر گیا کہ کہیں میرے متعلق قرآن نہ نازل