صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 560
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۶۰ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن تشريح فقط فَضْلُ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ: سورۃ فاتحہ کی فضیلت۔سورۃ الفاتحہ کے مختلف نام احادیث میں بیان ہوئے ہیں جن سے سورۃ فاتحہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ فاتحہ کے ان ناموں کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: وه فاتحة الکتاب ہے یعنی قرآن کریم میں سب سے پہلے اس کے رکھنے کا حکم ہے دوسرے وہ مطالب قرآنی کے لیے بمنزلہ ایک کلید کے ہے کہ اس کے ذریعہ سے قرآن کریم کے مطالب کھلتے ہیں۔پھر سورۃ فاتحہ سُورَةُ الْحَمدِ ہے یعنی اس سورۃ نے انسان اور بندہ کے تعلقات پر اور انسانی پیدائش پر اس رنگ میں روشنی ڈالی ہے کہ اس سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ انسانی پیدائش اعلیٰ ترقیات کے لئے ہے اور یہ کہ خد اتعالیٰ کا تعلق بندوں سے رحم اور فضل کی بنیادوں پر قائم ہے۔پھر وہ الصلوۃ ہے یعنی کامل دعا اس میں سکھائی گئی ہے جس کی مثال اور کہیں نہیں ملتی اور وہ ام الکتاب ہے اس میں وہ تمام علوم جن کے ذریعہ سے دوسروں کو خطاب کیا جاتا ہے، بیان کر دیئے گئے ہیں اور یہ بھی کہ وہ کتاب بمنزلہ ماں کے ہے یعنی قرآن کریم کے نزول کا موجب وہ دعائیں ہیں جو سورۃ فاتحہ میں بیان ہوئی ہیں اور جو درد مند دلوں سے اُٹھ کر عرش عظیم سے قرآن کریم کو لائی ہیں۔۔۔اور وہ السَّبُعُ الْمَقَانِی ہے یعنی گو صرف سات آیتیں اس میں ہیں لیکن ہر ضرورت ان سے پوری ہو جاتی ہے۔روحانیت کا کوئی سوال ہو کسی نہ کسی آیت سے اس پر روشنی پائی جائے گی گویا علمی سوالوں کے حل کرتے وقت بار بار حوالہ کے طور پر اس کی سات آیتیں دُہرائی جائیں گی اور اس لئے بھی وہ مثانی ہے کہ نماز کی ہر رکعت میں اسے پڑھا جاتا ہے۔وہ قرآن عظیم بھی ہے یعنی با وجود ام الکتاب اور ام القرآن کہلانے کے وہ قرآن کریم کا حصہ بھی ہے اور اس سے الگ نہیں جیسا کہ بعض لوگوں نے غلطی سے سمجھ لیا ہے۔قرآن عظیم سورۃ فاتحہ کو انہی معنوں سے کہا گیا ہے جس طرح ہم کسی سے کہتے ہیں قرآن سناؤ اور مراد اس سے ایک سورۃ یا ایک رکوع ہوتا ہے۔سورۃ فاتحہ شفا ہے کہ اس میں تمام ان وساوس کا رڈ ہے جو انسان کے دل میں دین کے بارہ میں پیدا ہوتے ہیں اور وہ رقیہؓ ہے کہ علاوہ دم کے طور پر استعمال ہونے کے اس کی تلاوت شیطان اور اس کی ذریت کے حملوں سے انسان کو بچاتی ہے اور دل میں ایسی قوت پیدا کرتی ہے کہ شیطان کے حملے بے ضرر ہو جاتے ہیں۔اور وہ کنز