صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 559
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۵۹ -۶۶- کتاب فضائل القرآن سَيِّدَ الْحَيِّ سَلِيْمٌ وَإِنَّ نَفَرَنَا غُيَّبٌ میں ایک لڑکی آئی اور کہنے لگی کہ اس قبیلہ کے فَهَلْ مِنْكُمْ رَاقٍ فَقَامَ مَعَهَا رَجُلٌ مَا سردار کو چھونے کاٹا ہے اور ہمارے مرد کہیں گئے كُنَّا نَأْبُنُهُ بِرُقْيَةٍ فَرَقَاهُ فَبَرَأَ فَأَمَرَ لَنَات ہوئے ہیں۔کیا تم میں سے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا ہے ؟ تو ایک شخص اس کے ساتھ اٹھ بِثَلَاثِيْنَ شَاةً وَسَقَانَا لَبَنَّا فَلَمَّا رَجَعَ کر چلا۔ہم خیال نہیں کرتے تھے کہ اسے بھی قُلْنَا لَهُ أَكُنْتَ تُحْسِنُ رُقْيَةً أَوْ كُنْتَ کوئی دم آتا ہے۔چنانچہ اس نے اس پر پھونکا وہ تَرْقِي قَالَ لَا مَا رَقَيْتُ إِلَّا بِأُم اچھا ہو گیا اور اس سردار نے اس کو ۳۰ بکریاں الْكِتَابِ قُلْنَا لَا تُحْدِثُوا شَيْئًا حَتَّى دینے کا حکم دیا اور ہمیں دودھ بھی پہلوایا۔جب وہ نَأْتِيَ أَوْ نَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ شخص لوٹا ہم نے اس سے پوچھا: کیا تم کوئی دم وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ذَكَرْنَاهُ اچھی طرح کر سکتے تھے ؟ کیا تم جھاڑ پھونک کیا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ کرتے تھے ؟ اس نے کہا: نہیں۔میں نے تو صرف وَمَا كَانَ يُدْرِيهِ أَنَّهَا رُقْيَةٌ اقْسِمُوْا سورۂ فاتحہ پڑھ کر پھونک دیا تھا۔ہم نے کہا: اپنی طرف سے) کچھ نہ کہو، جب تک کہ ہم نبی وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمِ۔وَقَالَ أَبُو مَعْمَرٍ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ نہ جائیں یا کہا: جب حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ تک ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہ لیں۔جب حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيْرِيْنَ ہم مدینہ میں آئے تو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مَعْبَدُ بْنُ سِيْرِينَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ سے اس کا ذکر کیا۔آپ نے فرمایا: اسے کیا پتہ تھا کہ وہ بھی کوئی دم ہے۔ان کو تقسیم کر لو اور میرا بھی ایک حصہ رکھو۔ابو معمر نے (اپنی سند میں) یوں کہا کہ ہم سے عبد الوارث نے کہا کہ ہمیں ہشام بن حسان) نے بتایا کہ محمد بن سیرین نے ہم سے بیان کیا کہ ہمیں معبد بن سیرین نے بتایا۔انہوں نے حضرت ابو سعید خدری سے یہی الْخُدْرِيِّ بِهَذَا۔اطرافه ۲۲۷۷، ٥٧٣٦، ٥٧٤٩۔روایت بیان کی۔عمدۃ القاری کے مطابق اس جگہ لفظ ”لہ“ ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۲۰ صفحہ ۲۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔