صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 554 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 554

صحیح البخاری جلد ۱۳ ۵۵۴ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن تشريح الْقُرَّاءُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے قرآن کے قاری۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن پڑھانے والے اُستادوں کی ایک جماعت مقرر فرمائی تھی جو سارا قرآن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حفظ کر کے آگے لوگوں کو پڑھاتے تھے۔یہ چار چوٹی کے اُستاد تھے جن کا کام یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن شریف پڑھیں اور لوگوں کو قرآن پڑھائیں۔پھر اُن کے ماتحت اور بہت سے صحابہ ایسے تھے جو لوگوں کو قرآن شریف پڑھاتے تھے ان چار بڑے اُستادوں کے نام یہ ہیں: (۱) عبد اللہ بن مسعودؓ۔(۲) سالم مولی ابی حذیفہ (۳) معاذ بن جبل (۴) اُبی بن کعب ان میں سے پہلے دو مہاجر ہیں اور دوسرے دو انصاری۔کاموں کے لحاظ سے عبد اللہ بن مسعودؓ ایک مزدور تھے۔سالم ایک آزاد شدہ غلام تھے۔معاذ بن جبل اور اُبی بن کعب مدینہ کے رؤساء میں سے تھے۔گویا ہر گروہ میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام گروہوں کو مد نظر رکھتے ہوئے قاری مقرر کر دیئے تھے۔ان کے علاوہ بھی بہت سے صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست بھی کچھ نہ کچھ قرآن سیکھتے رہتے تھے۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک دفعہ عبد اللہ بن مسعودؓ نے ایک لفظ کو اور طرح پڑھا تو حضرت عمر نے اُن کو روکا اور کہا کہ اِس طرح نہیں اس طرح پڑھنا چاہئے۔اس پر عبد اللہ بن مسعودؓ نے کہا نہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح سکھایا ہے۔حضرت عمر اُن کو پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یہ قرآن غلط پڑھتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبد اللہ بن مسعودؓ پڑھ کر سناؤ۔جب انہوں نے پڑھ کر سنایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے۔حضرت عمر نے کہا: یا رسول اللہ ! مجھے تو آپ نے یہ لفظ اور رنگ میں سکھایا ہے۔آپؐ نے فرمایا: یہ بھی ٹھیک ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف یہی چار صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن نہیں پڑھتے تھے بلکہ دوسرے لوگ بھی پڑھتے تھے۔چنانچہ حضرت عمرؓ کا یہ سوال کہ مجھے آپ نے اس طرح پڑھایا ہے بتاتا ہے کہ حضرت عمرؓ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھتے تھے۔“ ต (دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد ۲۰ صفحه ۴۲۸،۴۲۷)