صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 553
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۵۳ ۶۶- کتاب فضائل القرآن ٥٠٠٤ : حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ۵۰۰۴ معلی بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنِي عبد الله بن مثنیٰ نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا) ثَابِتُ الْبُنَانِيُّ وَثُمَامَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کہ مجھے ثابت بنانی اور ثمامہ نے حضرت انس سے مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کرتے ہوئے بتایا۔ انہوں نے کہا: نبی وَلَمْ يَجْمَعِ الْقُرْآنَ غَيْرُ أَرْبَعَةِ صلى اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے اور اس و اس وقت تک سوائے چار شخصوں کے سارا قرآن کسی نے یاد أَبُو الدَّرْدَاءِ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَزَيْدُ بْنُ نہیں کیا تھا۔ ابو دردا، معاذ بن جبل، زید بن ثَابِتٍ وَأَبُو زَيْدٍ قَالَ وَنَحْنُ وَرِثْنَاهُ۔ ثابت اور ابوزید۔ حضرت انس نے کہا: اور اطرافه ۳۸۱۰، ٣٩٩۶، ٥٠٠٣۔ اوم ابو زید کے ہم وارث ہوئے تھے۔ ٥٠٠٥ : حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ۵۰۰۵: صدقہ بن فضل نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيْبِ يحي بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ سفیان ثوری)۔ اسے، سفیان نے حبیب بن ابی ثابت سے، حبیب نے سعید بن جبیر سے، سعید عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ أُبَيِّ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی۔ انہوں أَقْرَؤُنَا وَإِنَّا لَنَدَعُ مِنْ لَحَنِ أَبَيّ وَأُبَيٌّ نے کہا: حضرت عمر کہتے تھے کہ آئی ہم میں يَقُوْلُ أَخَذْتُهُ مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ سب سے زیادہ قاری ہیں اور ہم ابی کی قراءت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا أَتْرُكُهُ کی غلطی کو چھوڑ دیتے ہیں۔ اور ابی کہتے رہتے ہیں لِشَيْءٍ قَالَ اللهُ تَعَالَى مَا نَنْسَحْ مِنْ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ آيَةٍ أَوْ تُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ سے قرآن سیکھا ہے، میں کسی اور وجہ سے اس کو مِثْلِهَا (البقرة: ٤ ) ۔ نہیں چھوڑتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : مَا نَنْسَحُ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُفْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا یعنی ہم جو آیت بھی منسوخ کرتے ہیں یا کہ بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا ویسی ہی لاتے ہیں۔ طرفه ٤٤٨١