صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 555
صحیح البخاری جلد ۱۲ نیز آپ نے فرمایا: ۵۵۵ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن ان چار کے سوا مسلمانوں میں اور بھی بعض بڑے بڑے قراء تھے مثلاً زید بن ثابت جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری زمانہ میں اپنی وحی لکھوایا کرتے تھے۔ابو زیڈ تھے جن کا نام قیس ابن السکن تھا۔یہ انصاری تھے اور بنو نجار قبیلہ میں سے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ننہال میں سے تھے۔اسی طرح ابو درداء انصاری بھی قراء میں سے تھے۔پھر حضرت ابو بکر بھی قاری تھے۔چنانچہ تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شروع زمانہ سے ہی قرآن شریف حفظ کرتے چلے آرہے تھے۔حضرت علی کی نسبت بھی ثابت ہو تا ہے کہ وہ قرآن شریف کے حافظ تھے بلکہ اُنہوں نے قرآن شریف کے نزول کی ترتیب کے لحاظ سے قرآن لکھنے کا کام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے معابعد شروع کر دیا تھا۔نسائی کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ( حضرت عمرؓ کے لڑکے) بھی قرآن شریف کے حافظ تھے اور وہ قرآن کریم کے اتنے مشتاق تھے کہ ساری رات میں ایک دفعہ قرآن کریم ختم کر لیتے تھے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع پہنچی تو آپ نے فرمایا: اقرأه في شَهْرٍ مہینہ میں ایک دفعہ ختم کر لیا کرو۔رات میں ایک دفعہ ختم نہ کیا کرو اس سے طبیعت پر بوجھ پڑ جاتا ہے۔ابو عبیدہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہاجر صحابہ میں سے مندرجہ ذیل کا حفظ ثابت ہے: ابو بکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، سعد، ابن مسعودؓ، حذیفہ، سالم ابو ہریرۃ، عبد اللہ بن سائب عبد اللہ بن عمر، عبد اللہ بن عباس۔اور عورتوں میں سے حضرت عائشہ ، حضرت حفصہ اور حضرت اُم سلمہ۔ان میں سے اکثر نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی قرآن شریف حفظ کر لیا تھا اور بعض نے آپ کی وفات کے بعد حفظ کیا۔اور ابن ابی داؤد کتاب الشریعت میں لکھتے ہیں کہ مہاجرین میں سے تمیم بن اوس الداری اور عقبہ بن عامرؓ کا حافظ ہونا بھی ثابت ہے۔اسی طرح بعض مصنفوں نے ثابت کیا ہے کہ مہاجرین میں سے عمرو بن العاص اور ابو موسیٰ اشعری بھی حافظ قرآن تھے۔انصار میں سے جو مشہور حفاظ تھے اُن کے نام یہ ہیں: عبادہ بن صامت، معاذ، مجمع بن حارثہ، فضالہ بن عبید، مسلمہ بن مخلد، ابوالدرداء، ابوزید، زید بن ثابت، ابی بن کعب، سعد بن عبادہ، ام ورقہ