صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 493
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۹۳ ۶۵ - كتاب التفسير / قل هو الله احد ۱۱۲ - سُورَةُ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمن اور رحیم ہے يُقَالُ لَا يُنَوَّنُ أَحَدٌ (الاخلاص :(۲) کہا جاتا ہے کہ احد کو تنوین سے نہ پڑھا جائے۔ أَيْ وَاحِدٌ ۔ باب ۱ اس کے معنی ہیں ایک۔ ٤٩٧٤ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا ۴۹۷۴ : ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ نے ہمیں بتایا کہ ابوالزناد نے ہم سے بیان عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ کیا۔ انہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، سے ، حضرت ابوہریرہ نے اللهُ تَعَالَى كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم نے مجھے لَهُ ذَلِكَ وَشَتَمَنِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ جھٹلایا اور اُسے یہ نہیں چاہیے تھا اور اس نے مجھے فَأَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ لَنْ يُعِيدَنِي گالی دی اور اسے یہ اُسے یہ نہیں چاہیے تھا۔ جو اس کا مجھے كَمَا بَدَأَنِي وَلَيْسَ أَوَّلُ الْخَلْقِ جھٹلانا ہے تو اس کا یہ کہنا ہے کہ وہ مجھے دوبارہ ہرگز بِأَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ إِعَادَتِهِ وَأَمَّا شَتْمُهُ پیدا نہیں کرے گا جیسا کہ اس نے پہلے پہل پیدا إِيَّايَ فَقَوْلُهُ اتَّخَذَ اللهُ وَلَدًا کیا۔ حالانکہ میرے لئے پہلی پیدائش اس کو (البقرة: ١١٧) (يونس: ٦٩) (الكهف: ٥) دوبارہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان نہیں اور جو وَأَنَا الْأَحَدُ الصَّمَدُ لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ اس کا مجھے گالی دینا ہے تو اس کا یہ کہنا ہے کہ اللہ وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفْوًا أَحَدٌ۔ اطرافه: ۳۱۹۳، ٤٩٧٥ نے ایک بیٹا بنایا۔ حالانکہ میں اکیلا ہوں، بے نیاز ہوں، نہ میں نے جنا اور نہ جنا گیا اور کوئی بھی میرے جوڑ کا نہیں۔ تشريح : سُورَةُ قُلْ هُوَ الله احد : حضرت خلیفہ الی الاول رضیاللہ عنہ فرماتے ہیں: حدیث شریف میں آیا ہے کہ ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ یا رسول الله إنّي أُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ میں اس سورہ (اخلاص)