صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 446 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 446

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۴۶ ۶۵ - كتاب التفسير / اقرا باسم ربك الذي أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ فَجَاءَهُ تھیں: پہلے پہل جو قسم وحی کی رسول اللہ صلی اللہ الْمَلَكُ فَقَالَ اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي علیہ وسلم سے شروع ہوئی وہ اچھی خواہیں تھیں۔ خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اِقْرَاْ پھر آپ کے پاس فرشتہ آیا اور اس نے کہا: اپنے وَ رَبُّكَ الْأَكْرَمُ (العلق : ٢-٤ ) ۔ رب کا نام لے کر پڑھ جس نے (سب اشیاء کو ) پیدا کیا (اور جس نے) انسان کو ایک خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا ( پھر ہم کہتے ہیں کہ قرآن کو پڑھ کر سناتا رہ کیونکہ تیرا رب بڑا کریم ہے۔ أطرافه: ۳، ۳۳۹۲ ، ٤٩٥٣، ٤٩٥٦، ٤٩٥٧، ٦٩٨٢- تشریح : خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَق : (اور جس نے) انسان کو ایک خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ حضرت خلیفة المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ : علق بغیر ہڈی کے گوشت کے کیڑے کو کہتے ہیں۔ انسان کی پیدائش کی ابتداء اس باریک کیڑے سے ہوتی ہے جو نطفہ منی میں ہوتا جس کو ڈاکٹری اصطلاح سپر موٹوزہ کہتے ہیں۔ ربوبیت کی ابتدائی کیفیت اور ہے۔ علق کی ابتدائی کمیت مساوی الحال ہوتے ہیں ۔ “ ( حقائق الفرقان، جلد ۴ صفحه ۴۲۲) بَاب : قَوْلُهُ اقْرَأْ وَ رَبُّكَ الْأَكْرَمُ (العلق : ٤) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: پڑھ اور تیرا رب بڑا احسان کرنے والا ہے ٤٩٥٦ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۴۹۵۶: عبد اللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ کیا کہ عبد الرزاق نے ہمیں بتایا معمر نے ہمیں خبر الزُّهْرِيِّ ح۔ وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ دی ۔ معمر نے زہری سے روایت کی۔ اور لیٹ (بن قَالَ مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ سعد ) نے کہا: عقیل نے مجھے بتایا: محمد (بن شہاب ) رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ نے کہا : عروہ نے مجھے خبر دی، عروہ نے حضرت رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ پہلے پہل جو الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ جَاءَهُ الْمَلَكُ فَقَالَ : رسول اللہ صل اللہ علم کو شروع ہوئیں تو وہ سچی خوا ہیں