صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 447
صحیح البخاری جلد ۱۲ م م ۶۵ - کتاب التفسير / اقرا باسم ربك الذي اقرأ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ تھیں۔آپ کے پاس فرشتہ آیا اور اس نے کہا: الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اِقْرَأْ وَ رَبُّكَ الْأَكْرَمُ اپنے رب کا نام لے کر پڑھ جس نے (سب اشیاء الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (العلق: ٢-٥)۔کو ) پیدا کیا ( اور جس نے) انسان کو ایک خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا ( پھر ہم کہتے ہیں کہ قرآن کو پڑھ کر سناتارہ کیونکہ تیر ارب بڑا کریم ہے۔وہ رب جس نے قلم کے ساتھ علم سکھایا (ہے اور آئندہ بھی سکھائے گا۔) أطرافه ،۳ ۳۳۹۲ ٤۹۵۳، ٤٩٥٥ ١٩٥٧، ٦٩٨٢۔تشريح : اقْرَأْ وَ رَبِّكَ الأكْرَم : پڑھ اور تیرا رب بڑا احسان کرنے والا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: 66 اقْرَأْ وَ رَبُّكَ الْأَكْرَمُ " اکرم کے لفظ میں پیشگوئی فرمائی کہ آپ مکرم و معظم ہو جائیں گے۔“ ( حقائق الفرقان، جلد ۴ صفحه ۴۲۲) بَاب : الَّذِي عَلَمَ بِالْقَلَمِ (العلق : ٥) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا ) وہ رب جس نے قلم کے ساتھ علم سکھایا ہے اور آئندہ بھی سکھائے گا) ٤٩٥٧: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۴۹۵۷ عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ کہ لیث نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عقیل سے ،عقیل قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ نے ابن شہاب سے روایت کی۔انہوں نے کہا: اللهُ عَنْهَا فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى الله میں نے عروہ سے سنا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَدِيجَةَ فَقَالَ زَمِلُونِي فرماتی تھیں: پھر نبی ملایا کہ حضرت خدیجہ کے پاس زَمِّلُونِي فَذَكَرَ الْحَدِيثَ۔لوٹ آئے۔پھر فرمایا: مجھے کپڑا اوڑھاؤ، مجھے کپڑا رَضِيَ اُوڑھاؤ۔پھر یہی حدیث بیان کی۔أطرافه ۳ ، ۳۳۹۲ ٤٩٥۳، ٤٩٥٥ ٤٩٥٦ ٦٩٨٢- تشریح: الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ : وہ رب جس نے قلم کے ساتھ علم سکھایا ہے اور آئندہ بھی سکھائے گا۔) حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: الَّذِی عَلَّمَ بِالْقَلَم : عرب ایک ایسا جزیرہ تھا کہ اسلام سے پہلے کوئی تاریخ نہیں