صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 416
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۱۶ ۶۵ - كتاب التفسير / والضحى ہے۔ تشریح : مَا وَدَعَكَ رَبِّكَ وَمَا قَلی : نہ تیرے رب نے تجھے ترک کیا ہے اور نہ تجھ سے ناراض ہوا۔ حضرت خلیفة المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وقع کے معنے دوستی کو وداع کرنے اور قطع محبت کر دینے کے ہیں۔ قلی: بمعنی عداوت دشمنی، بیزاری کما قال الله تعالى إِنِّي لِعَمَلِكُم مِّنَ الْقَالِينَ ) (الشعراء: ۱۶۹) وجہ اس سورہ شریفہ کے نزول کی یہ بیان ہوئی ہے کہ چند روزہ فترت وحی کی وجہ سے ابو سفیان کی بہن نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت نعوذ باللہ یوں کہا تھا کہ مَا أَرَى شَيْطَانَكَ إِلَّا قَدْ تَرَكك اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رنج ہوا اور یہ آیتیں تسلی بخش نازل ہوئیں۔ اس شان نزول کو پیش نظر رکھ کر آیہ کریمہ مَا وَدَعَكَ کے ساتھ مٹی اور لیل سنجی سے مراد چہرہ انور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے سیاہ گیسو مبارک عمدہ توفیق اور توجیہ رکھتے ہیں۔ والضحیٰ رمزے زِ روئے ہمچو ماہ مصطفی است معنی و الیل گیسوئے سیاہ مصطفی است مائیں اپنے بچوں کو پیار اور محبت کے وقت دیکھا گیا ہے کہ اسی قسم کے الفاظ سے خطاب کرتی ہیں۔“ (حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۴۰۴) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: مَا وَدَعَكَ رَبُّكَ خدا تعالیٰ نے تجھے رخصت نہیں کر دیا اس نے تجھ سے کینہ نہیں کیا بلکہ ہمارا یہ ایک قانون ہے جیسے رات اور دن کو بنایا ہے اسی طرح ان طرح انبیاء علیہم السلام کے ساتھ بھی ایک قانون ہے کہ بعض وقت وحی کو بند کر دیا جاتا ہے تا کہ ان میں دعاؤں کے لیے زیادہ جوش پیدا ہو اور مٹی اور تیل کو اس لیے بطور شاہد بیان فرمایا تا آپ کی امید وسیع ہو اور تسلی اور اطمینان پیدا ہو۔“ ملفوظات جلد اول صفحه ۱۵۰) ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: "یقیناً میں تمہارے کردار سے سخت بیزار ہوں۔“