صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 404
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۰۴ ۶۵ - كتاب التفسير / واليل اذا يغشى تجلى (اليل : ۲ ، ۳) وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى سے کون زیادہ قاری ہے؟ انہوں نے میری طرف قَالَ أَنْتَ سَمِعْتَهَا مِنْ فِي صَاحِبِكَ اشارہ کیا۔ حضرت ابو دردانہ نے کہا: پڑھو۔ میں نے قُلْتُ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا سَمِعْتُهَا مِنْ فِي پڑھا: وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَؤُلَاءِ وَالذَّكَرِ وَالْأُنْقَی یعنی رات کی قسم ہے جب وہ يَأْبَوْنَ عَلَيْنَا ۔ چھا جاتی ہے اور دن کی قسم ہے جب وہ روشن ہو جائے اور نر و مادہ کی قسم ہے۔ ہے۔ حضرت ابو درداء نے کو نے کہا: کیا تم نے اس سورۃ کو اپنے استاذ (حضرت عبداللہ بن مسعود کے منہ سے سنا؟ میں نے کہا: ہاں۔ حضرت ابو دردار نے کہا: اور میں نے بھی اس سورۃ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے سنا تھا اور یہ لوگ ہماری نہیں مانتے۔ أطرافه: ۳۲۸۷، ۳۷۴۲، ۳۷۴۳، ٣٧٦۱، ٤٩٤٤، ٦٢٧٨۔ آ : وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنثى (اليل : ٤) باب ۲ : و اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) اور نر اور مادہ کی پیدائش کو بھی (شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں) ٤٩٤٤ : حَدَّثَنَا عُمَرُ حَدَّثَنِي أَبِي ۴۹۴۴: عمر بن حفص بن غیاث ) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ کیا کہ میرے باپ نے مجھے بتایا، انہوں نے کہا:) قَدِمَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ عَلَى أَبِي اعمش نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے ابراہیم (نخعی) الدَّرْدَاءِ فَطَلَبَهُمْ فَوَجَدَهُمْ فَقَالَ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عبد الله أَيُّكُمْ يَقْرَأُ عَلَى قِرَاءَةِ عَبْدِ اللهِ قَالَ (بن مسعود) کے ساتھی حضرت ابو درداء کے پاس كُلُّنَا قَالَ فَأَيُّكُمْ يَحْفَظُ وَأَشَارُوا إِلَى آئے۔ حضرت ابو دردانہ نے ان کی تلاش کی اور عَلْقَمَةَ قَالَ كَيْفَ سَمِعْتَهُ يَقْرَأُ وَالَّيْلِ ان کو پالیا اور انہوں نے پوچھا: عبد اللہ بن مسعود إِذَا يَغْشَى (اليل : ٢) قَالَ عَلْقَمَةُ کی قراءت کے مطابق تم میں سے کون پڑھتا ہے؟ وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى قَالَ أَشْهَدُ أَنِّي انہوں نے کہا: ہم سبھی۔ حضرت ابو درداء نے پوچھا: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تم میں سے حافظ کون ہے؟ تو انہوں نے علقمہ کی